امریکی ویزا پالیسی میں تبدیلی، بھارتی آئی ٹی انڈسٹری پرکتنااثرپڑے گا؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکا کی ایچ ون بی ویزا پالیسی میں تبدیلی سے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری شدید متاثر ہونے کاامکان پیداہوگیا۔
امریکی صدر نے امیگریشن محدود کرنے کے لیے ایچ ون بی ورکر ویزا کی سالانہ فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دی تھی اور اب اس پالیسی سےمتعلق نیا ایگزیکٹو آرڈربھی آج سے نافذ ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایچ ون بی ویزہ رکھنے والوں یا تجدید کرانے والوں پر نئی فیس کا اطلاق نہیں ہو گا ،تاہم نئے آرڈر سے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری شدید متاثر ہونےکا خدشہ ہے جبکہ چین اور پاکستان کے ٹیک پروفیشنلز بھی ایچ ون بی ویزا پالیسی سے متاثر ہوں گے۔
امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں جاری ایچ ون بی ویزوں میں سب سے زیادہ 71 فیصد حصہ بھارت کا ہے، چین 11.7 فیصد کےساتھ دوسرے جبکہ پاکستان ایک فیصد سے بھی کم حصے کے ساتھ آٹھویں نمبر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ پنجاب نے کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے جدید منصوبہ پیش کر دیا
ڈیلس میں مقیم امیگریشن اٹارنی نعیم سکھیا کے مطابق ویزا پالیسی میں تبدیلی سے پاکستان کے آئی ٹی، انجینئرنگ اور تعلیم کے شعبوں میں اسپانسرشپ مہنگی ہوگی، تاہم نرسنگ اور ہیلتھ کیئرزکو نیشنل انٹرسٹ استثنیٰ ملنےکا امکان ہے۔