’’باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں‘‘؛ فادرز ڈے،خوبصورت رشتے کی خوشبوسے مہکتاتہوار

Jun 21, 2026 | 11:11:AM
’’باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں‘‘؛ فادرز ڈے،خوبصورت رشتے کی خوشبوسے مہکتاتہوار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)ہر بچے کا اصلی ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے لیکن آج کے معاشرے میں ہمیں یہ ہیرو منظر سے ہٹا ہوا دکھائی دیتا ہے شاید اس ہیرو کو واپس لانے کے لئے ہی اب عالمی سطح پر فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو باپ اپنی ساری زندگی اپنے بچّوں کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے لئے دُنیا بھر کی خوشیاں اور راحتیں جمع کرتے ہوئے گزار دیتا ہے اس کے لئے سال میں محض ایک دن مخصوص کر کے حق ادا کیا جا سکتا ہے؟
کہتے ہیں ماں باپ کے دس بچے بھی ہوں تووہ کسی کوگھر سے نہیں نکالتے بلکہ اپناپیٹ کاٹ کراوراپنی دیگر ضروریات کومحدود بسا اوقات ختم کرکے بچّوں کی پرورش کرتے ہیں لیکن دس بچّوں کے والدین کوبڑھاپے میں بعض اوقات سرچُھپانے اورچندنوالے روٹی کھانے کیلئے بھی دربدردھکے کھانے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے اب ہمارے ہاں بھی یورپ کی طرزپر ایسے بدنصیب والدین کیلئے اولڈایج ہوم قائم کئے جارہے ہیں،باپ اپنے بچّوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے اور خود سارا دن بھوکا پیاسا رہ کربھی خوشی خوشی اپنے بچّوں کے درمیان لوٹ جاتا ہے، باپ اپنی اولاد میں جیتا اور اس کی خوشی میں سانس لیتا ہے۔ 
’’فادرزڈے‘‘عموماً جون کے تیسرے اتوارکومنایاجاتاہے لیکن کئی مُلکوں میں الگ الگ تاریخوں میں بھی منایاجاتاہے،پاکستان میں فادرزڈے آج منایاجارہاہے۔یہ دن منانے کاآغازامریکہ سے ہواتھااورپہلا فادرزڈے 19جون1910ء کوواشنگٹن میں منایاگیاتھا۔
کہاجاتاہے یہ دن منانے کا خیال سنوراسمارٹ ڈوڈ نامی ایک خاتون نے اس وقت پیش کیاتھا جب وہ 1909ء میں ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔سنوراکی پرورش ماں کی وفات کے بعد اس کے باپ ولیم سمارٹ نے کی تھی اوروہ اپنے والد کو بتاناچاہتی تھی کہ وہ اس کیلئے کتنے اہم ہیں اس لئے اس نے اپنے والد کی سالگرہ کے دن یعنی 19جون کوفادرز ڈے کے طور پر منایاپھر1956ء میں امریکی کانگرس نے ایک قراردادکے ذریعے اسے باقاعدہ طور پرفادرز ڈے تسلیم کرلیا،اب پاکستان سمیت دُنیاکے بیشتر ممالک میں جون کا تیسرا اتوارفادرزڈے کے طور پر منایاجاتاہے۔

مصطفٰی قریشی کاشُمارپاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ لیجنڈزمیں ہوتا ہے ،وہ ذاتی زندگی میں انتہائی ملنساراور بہت محبّت کرنیوالے شفیق باپ بھی ہیں ان کے دو بچّے ہیں،ایک بیٹا اورایک بیٹی۔بیٹاعامر قریشی بھی شوبزمیں  ہے۔مصطفیٰ قریشی نے فادرز ڈے کے حوالے سے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بتایاکہ باپ محنت کرکے اپنے بیٹے کوجوان کرتا ہے ،اس کی خواہش ہوتی ہے اس کا بیٹا بلندیوں تک پہنچے۔ماں کی طرح باپ کی بھی بہت اہمیت ہے لیکن آج کل اولاد ماں باپ کی اس طرح سے فرمانبردار نہیں ہے۔جہاں تک میرے بیٹے عامر قریشی کا تعلق ہے تو عامر قریشی ماشاء اللہ بالکل صالح اولاد ہے، وہ ہر طرح سے میرا ہمدرد اور صالح ہے، بہت باادب ہے،وہ جوکچھ کررہا ہے،اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرکر رہا ہے ۔میرے خیال میں ہردن فادرز ڈے اور مدرز ڈے ہونا چاہئے۔


 غلام محی الدین کا شُمار بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ لیجنڈزمیں ہوتاہے،فلموں کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی بہت کام کیاہے ،وہ ذاتی زندگی میں انتہائی ملنسار اوراپنے بچّوں سے بہت زیادہ محبّت کرنے والے شفیق باپ ہیں۔غلام محی الدین نے بتایا کہ فادرز ڈے منانے میں کوئی ہرج نہیں ہے،مغرب نے بھی ہماری بہت ساری اچھی چیزیں مستعار لی ہیں۔اصل میں ہم لوگوں کا مزاج بن گیا ہے کہ ہرچیز پر تنقید ہی کرنی ہے۔فادرز ڈے ایک قسم کی یاددہانی ہوتی ہے کہ باپ کی کیا اہمیت ہے۔ نئی نسل کو پتہ ہونا چاہیے کہ مدرز ڈے کیا ہے اور فادرز ڈے کیا ہے؟ ان کی اہمیت کیا ہے اس لیے یہ دن منانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔جہاں تک میرے بیٹے علی محی الدین کا تعلق ہے تو وہ ماشاء اللہ میرا دوست ہے ،ہماری اس حد تک انڈرسٹینڈنگ ہے کہ ہم آپس میں مل بیٹھ کر ہر چیز ڈسکس کرتے ہیں باپ بیٹے کے درمیان ایسی انڈرسٹینڈنگ ہونی چاہیے۔ یہ دن منانے سے پیارمحبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر مدرز ڈے پر ماں کے لئے کچھ لاتے ہیں یا فادرز ڈے پر باپ کیلئے کچھ لاتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں، اس سے رشتوں میں مضبوطی آتی ہے۔


’’فن کے سلطان‘‘ سلطان راہی کے صاحبزادے حیدرسلطان نے فادرز ڈے کے حوالے سے بتایا کہ ابوبہت پیار کرنے والے اور ہرایک کا خیال رکھنے والے تھے ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو دُنیا کو ساتھ لے کرچلتے ہیں،ہر باپ اولاد کے لئے ہیرو ہوتا ہے لیکن راہی صاحب توہمارے علاوہ باہر بھی ہیرو اور کئی لوگوں کے باپ تھے کیونکہ ان کی وجہ سے کئی گھروں کے چولہے جلتے تھے،وہ لوگ انہیں ہم سے بھی زیادہ مِس کرتے ہیں۔


پنجاب کی ثقافت اورلوک گائیکی سے آگاہ لوگ عارف لوہار کے نام سے بخوبی آگاہ ہیں ۔عارف لوہار نے بتایا کہ میں اپنے والد حاجی عالم لوہار کا عاشق ہوں جو اپنے باپ کا چہرہ دیکھ کر خوش ہوتاتھا بلکہ میں توکہاکرتاہوں کہ جو اپنے باپ کے عاشق ہوتے ہیں زمانہ اُن کا عاشق ہوجاتا ہے۔آج مجھے اللہ نے جو بھی مقام دیا ہے وہ والد کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔میں سمجھتا ہوں والد اللہ کی ایسی نعمت ہے جو بچّے کا سب سے پہلا ہیرو ہوتا ہے۔