فلسطین سے کشمیر تک حل طلب مسائل برقرار، مقابلہ مشترکہ و  مضبوط موقف سے ہی ممکن، اسحاق ڈار

Jun 21, 2025 | 23:15:PM
فلسطین سے کشمیر تک حل طلب مسائل برقرار، مقابلہ مشترکہ و  مضبوط موقف سے ہی ممکن، اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) نائب وزیراعظم و و زیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مسلم امہ کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے،فلسطین سے کشمیر تک حل طلب مسائل برقرار ہیں، اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشی میں اضافہ ہو رہا ہے, اس سب کا مقابلہ مشترکہ اور مضبوط موقف سے ہی ممکن ہے،بدقسمتی سے جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کے دور میں بھی بعض ممالک خودمختاری اور حق خودارادیت جیسے بنیادی اصولوں کو پامال کر رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ  شفقت علی خان کے مطابق او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 51ویں اجلاس میں اسحاق ڈار نے ترکیہ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ کیمرون کی حکومت کا شکریہ جنہوں نے گزشتہ اجلاس کی کامیابی سے میزبانی اور صدارت کی, او آئی سی سیکریٹری جنرل حصین براہیم طحہ اور ٹیم کو عمدہ تیاریوں اور او آئی سی کے مقاصد کے فروغ پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں,موجودہ اجلاس انتہائی حساس وقت میں ہو رہا ہے,جب مسلم امہ کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے,فلسطین سے کشمیر تک حل طلب مسائل برقرار ہیں،اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشی میں اضافہ ہو رہا ہے, اس سب کا مقابلہ مشترکہ اور مضبوط موقف سے ہی ممکن ہے, 51 ویں اجلاس کا موضوع ‘تبدیل ہوتے عالمی منظرنامے میں او آئی سی کا کردار’ انتہائی موزوں ہے,بدقسمتی سے جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کے دور میں بھی بعض ممالک خودمختاری اور حق خودارادیت جیسے بنیادی اصولوں کو پامال کر رہے ہیں, حقیقی تبدیلی اس میں ہے کہ دنیا میں امن، قانون کی حکمرانی، انسانی ہمدردی، تعاون، ماحولیاتی انصاف اور معاشی خوشحالی کو فروغ دیا جائے,طاقت کا استعمال نہیں بلکہ رواداری اور تعاون ریاستی پالیسی کا حصہ ہونا چاہئے,

ہمیں یقین ہے ترکیہ کی قیادت میں او آئی سی ان اصولوں پر پیشرفت کرے گی,مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران باعث تشویش ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت پورے خطے کے امن کو متاثر کر رہی ہے, اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کے نتیجے میں اب تک 55,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں,لاکھوں بے گھر اور بنیادی امداد سے محروم ہیں, پاکستان نے سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد مشترکہ طور پر پیش کی تھی,جو بدقسمتی سے ویٹو کر دی گئی,پاکستان فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، فلسطینیوں کو حق خود ارادیت ملنا لازمی ہے, پاکستان اسرائیل کی ایران پر بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے, اسرائیلی جارحیت خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے اور عالمی امن کے لئے خطرہ ہے,پاکستان نے ایرانی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے میں مکمل تعاون کیا, ایران کے حق دفاع کو اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز سمجھتے ہیں, پاکستان پر حال ہی میں بھارت کی بلااشتعال جارحیت بھی اسی طرح کی خلاف ورزی ہے,پاکستان نے 6 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا,بھارت کی اشتعال انگیزی، متنازعہ اقدامات اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش خطے کے امن کے لئے خطرناک ہے,پاکستان پانی روکنے کی اجازت نہیں دے گا، مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں تنازعے کی بنیادی وجہ اور ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے, اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے, او آئی سی کی کشمیر پر اصولی پالیسی اور مسلسل حمایت کو سراہتے ہیں,سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کا پاکستان و آزاد کشمیر کا حالیہ دورہ او آئی سی کی حمایت کا ثبوت ہے, او آئی سی کو بھارتی جارحیت کی مذمت، کشمیر ایکشن پلان پر عملدرآمد اور مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ نےمزید  کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں، تاہم بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بدستور جاری ہے, پاکستان اس کا مقابلہ بھرپور طریقے سے کرے گا,او آئی سی کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے ذمہ دار ممالک کا محاسبہ کرنا چاہیے, او آئی سی کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے,افغانستان کا استحکام علاقائی امن کے لئے اہم ہے,پاکستان افغان عوام کی مدد، اثاثوں کی بحالی اور علاقائی روابط کے فروغ کے لئے کوشاں ہے,افغان عبوری حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خواتین و بچیوں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ترک صدر سے او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ملاقات