فٹ بال ورلڈ کپ میں 20دن باقی، ایرانی ٹیم کو ویزے ابتک نہیں ملے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)فٹ بال کا 23واں فیفا ورلڈ کپ 11 جون 2026 سے شروع ہو رہا ہے۔ ایران کی فٹ بال ٹیم ورلڈ کپ کے لیے اب بھی امریکہ جانے کے لئے ویزوں کی منتظر ہے۔
تہران میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی فٹ بال کھلاڑیوں اور عملے کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے ابھی تک ویزے نہیں ملے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران ٹیم کے کھلاڑی اور آفیشل اس دوران وہ ترکی میں واقع کینیڈین سفارت خانے میں ویزوں کے لیے درخواست دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ایرانی ٹیم کا پہلا میچ 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہونا ہے۔ یہ دونوں ٹیمیں گروپ جی (Group G) میں شامل ہیں۔اس میچ کے بعد لاس اینجلس میں ہی ایران کا میچ بیلجیم سے اور پھر سیئاٹل میں مصر سے ہوگا۔
ایران کی ٹیم مین پاسداران انقلاب کے سابق ارکان کی موجودگی کے معاملہ پر امریکہ اور ایران مین تنازعہ ہے۔ امریکہ نے پاسداران انقلاب پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور ایران کی اس مسلح فوج کے کسی موجودہ اور سابق رکن کو امریکہ کا ویزا دینے پر تیار نہیں ہے۔ کینیڈا نے بھی پاسداران انقلاب پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو ایک اور اچھی ڈیل دے رہے ہیں، نہ مانا تو بہت بُرا ہوگا: ٹرمپ
امریکہ کے حکام تو واضح اعلان کر چکے ہیں کہ ایران کی فٹ بال ٹیم میں شامل پاسداران انقلاب کے کسی سابق رکن کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کینیڈا کے حکام اس سے ایک قدم ٓگے جا کر حال ہی میں (اپریل/مئی 2026 میں) ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج (جو پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں) کو فیفا کانگریس میں شرکت کے لیے کینیڈا پہنچنے پر ٹورنٹو ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج چکے ہیں۔ ؎
یہ بھی پڑھیئے: وزیر داخلہ کا دورہ تہران،صدر ڈاکٹر پیشکیان سے ملاقات
کینیڈین حکام کے مطابق مہدی تاج کو غلطی سے عارضی اجازت نامہ (ویزا) جاری ہو گیا تھا، لیکن جیسے ہی ان کے پاسدارانِ انقلاب سے ماضی کے تعلق کا انکشاف ہوا، کینیڈین امیگریشن نے مڈ فلائٹ (دورانِ پرواز) ان کا ویزا منسوخ کر دیا اور کینیڈا کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 اور ایران کا موقف
ایران کا فیفا سے مطالبہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مشترکہ میزبانوں (امریکہ، کینیڈا، میکسیکو) سے ایرانی فٹ بال ٹیم کے ان تمام کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کو ویزے دیدلوائےجائیں جو ماضی میں پاسدارانِ انقلاب میں لازمی فوجی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: انگلینڈ کے جاسوس طیارے کو روسی جنگی طیاروں نے گھیر لیا، ویڈیو کلپ سامنے آگئی