پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے: مشیر خزانہ خرم شہزاد کے بیان پر شدید ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات زیادہ تر ایلیٹ کلاس اور گاڑی استعمال کرنے والوں پر پڑتے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر کار استعمال کرنے والے اور ایلیٹ طبقے پر ہوتا ہے جبکہ موٹرسائیکل سوار اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے کیونکہ ان کو تو سپورٹ مل رہی ہے۔
خرم شہزاد کے اس بیان نے سوشل اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے جہاں عوامی حلقوں نے اسے زمینی حقائق سے لاعلمی اور متوسط و غریب طبقے کے مسائل کا مذاق قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی مالکان نہیں بلکہ موٹرسائیکل سوار، دیہاڑی دار مزدور اور عام شہری بھی روزمرہ اخراجات، کرایوں اور مہنگائی کی صورت میں بھگتتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں جعلی سموں سے بینک فراڈ کرنے والا گروہ بے نقاب، ایک بینکر سمیت 3 ملزمان گرفتار
محمد عمیر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشیر زخم دے کر ساتھ نمک بھی چھڑک رہے۔
ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ 24 لاکھ روپے تنخواہ،سرکاری گاڑی،سرکاری پیٹرول،ہوائی سفر سرکاری خرم شہزاد کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول چاہے 411 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار کا ہو جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ان کو احساس ہی نہیں کہ عوام کس عذاب سے گزر رہی ہے۔