مغرب یوکرین جنگ ہار چکا ہے ؟
از: اسلم اعوان
Stay tuned with 24 News HD Android App
تیزی سے انجام کی طرف بڑھتی یوکرین جنگ نے امریکی پالیسی سازوں کو اس مخمصہ میں مبتلا کر رکھا ہے کہ وہ سابقہ سوویت یونین کی مانند دوسرے بڑے جیو اسٹریٹجک عالمی المیہ کو ردّ یا قبول کس طرح کریں یعنی سوویت یونین کی طرح نیٹو بھی آج اُسی دو راہے پہ آن کھڑا ہے، جہاں انہیں ایک طرف طویل جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا اور دوسری جانب حتمی امن معاہدہ کی صورت میں عالمی قیادت سے دستبرداری کی اذیت قبول کرنا پڑے گی ۔
جس طرح اپریل 1988میں گوربا چوف نے جنیوا معاہدہ پہ دستخط کرنے کے بعد کیمونسٹ انقلاب کے شکوہ کی علامت دیوار برلن کے انہدام کے علاوہ بالٹک ریاستوں سمیت پورے مشرقی یوروپ سے دستبرداری قبول کر لی تھی ، اسی طرح وقت کی رفتار نے 90 کی دہائی میں کبریائی صلاحیتوں کے ساتھ عالمی افق پہ نمودار ہونے والے امریکہ کو بھی اجڑے ہوئے دیوتا کی مانند ایشیا اور یوروپ سمیت دنیا کی حاکمیت سرنڈر کرنے پہ مجبور کر دیا ، بے وفا تقدیر اِسی طرح مربوط واقعات کی مدد سے کرداروں کو آگے بڑھا کر ان کی مرضی کے بغیر انہیں اَن دیکھی تباہی میں پھنسا دیتی ہے بلاشبہ فطرت کا ابدی اصول یہی ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی ضرور ہے ۔
امریکہ کی عالمی حاکمیت کا دفاع کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ 1991میں سوویت یونین سرد جنگ ہار گیا ، لینن و سٹالن کی سلطنت اپنی حکمت عملیوں کے خم و پیچ میں الجھ کر بکھر گئی ، مغرب فاتح ہونے کے ناطے سرد جنگ کے بعد کے نظام کو ایسے طریقوں سے تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ گیا جو اس کے مفادات اور ترجیحات کے حق میں ہوں چنانچہ حقیقت کے اس سادہ بیان میں بدعہدی یا غداری کا کوئی سوال نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی سیاست میں واپسی ؟معروف صحافی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا
اگر معاملہ الٹا ہوتا تو روس کو بھی یہی حق حاصل ہوتا ، بیشک ، بین الاقوامی سطح پہ قوموں کے درمیان معاملات شخصی اخلاقیات کے مطابق نہیں بلکہ دو طرفہ مفادات کو پیش نظر رکھ کر نمٹائے جاتے ہیں ، چنانچہ1991 کے بعد امریکہ نے فاتح ہونے کے استحقاق کو استعمال کرتے ہوئے وسطی یورپ اور بالٹکس میں سوویت یونین کے مابعد کے خلاء کو پُر کرنے کے لئے نیٹو کی توسیع کو سیاسی مشق کے طور پر آزمایا مگر شومئی قسمت سے تاریخ کے اختتام کا موومنٹم امریکیوں کو اپنے نولبرل عالمی اقتصادی ایجنڈے کے تعاقب میں بھٹکا کر فنا کی گھاٹیوں کی طرف لے گیا خاص طور پر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگوں کے ذریعے مہمل''جمہوریت'' کی تعمیر اور ''قوم سازی'' کے من چاہئے منصوبوں پر کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود واشنگٹن کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔
امریکی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ یوکرین پر حتمی امن معاہدہ محض میدان جنگ میں مغرب کی شکست کی توثیق نہیں کرے گا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ ماسکو کی جھولی میں ایسی عظیم فتح ڈالے گی جو سرد جنگ میں مغرب کی جیت کے سارے نتائج کو پلٹ دے گی ۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ روس اب غیر واضح فتح کے قریب پہنچ چکا ہے ، جس سے نہ صرف یورپ بلکہ مشرق وسطی، جزیرہ نما کوریا اور انڈو پیسیفک میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں، جو روس کو چین کے ساتھ طاقت کی نئی تکوین کے ذریعے ایشیا کے اجتماعی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے آزاد کر سکتی ہیں ۔ مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں ، یوکرین جنگ ہار چکا ہے لیکن یورپی شراکت دار اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں ، حیرت انگیز طور پر اِس آزمائش میں نیٹو کا سیاسی ڈھانچہ نہایت کھوکھلا نکلا اور اُس کی دفاعی قوت روس کی مضبوط فوجی و صنعتی طاقت کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی لیکن پھر بھی انتہائی سفاکی کے ساتھ یوکرین کو ایسی جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے جسے وہ کبھی نہیں جیت سکتا ۔ کیا یوروپ یوکرین کو فتح سے ہمکنار کرا سکتا ہے ؟
مزید پڑھیں:بڑی سیاسی شخصیت نجی پرواز سے آف لوڈ بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
فی الوقت مغربی افق پہ اس سے بڑا کوئی سوال نہیں تاہم اب بھی مقبول مغربی بیانیہ یہی ہے کہ یورپی حمایت سے جنگ کا رخ موڑ کر یوکرین کے مفتوحہ علاقے دوبارہ حاصل کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ نظریہ حد سے زیادہ پُرامیدی کی طرح وہم باطل ثابت ہو گا ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یورپ اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ یوکرین کو موثر طریقے سے مسلح کر سکے ، وہ ہتھیاروں کے نئے نظام کی تیاری کے لئے جتنی بھی سرمایہ کاری کرے ، اُس کے نتیجے میں اسلحے کی تنصیب میں اگر دہائیاں نہیں تو برسوں ضرور لگ سکتے ہیں، اس دوران، روس یوکرائن کی مزید زمین نگل جائے گا ۔ صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یوکرین کو درپیش فوجی چیلنجز کی شدت کو تسلیم کیا جائے ، روسی فوج اب بھی مضبوط لڑاکا قوت ہے ، اس کے پاس وسیع صنعتی وسائل اور لڑنے کی خاطر نقصان اٹھانے کا جذبہ موجود ہے جسے کوئی یورپی ملک برداشت نہیں کر پائے گا ۔
پچھلے تین سالوں کی جنگ میں کریملن نے کامیابی کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی کاروائیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ، خاص کر حالیہ ہفتوں میں اس کی غیر معمولی فعالیت جنگی مقاصد حاصل کرنے کے عزم کا اظہار تھی ۔ اس کے برعکس یوکرین کی فوج ایسی دفاعی صنعت پہ انحصار رکھتی ہے جو برسوں کی جنگ اور نظر اندازی کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہے ۔ یہ خیال کہ یورپ روس کی طاقت کو ختم کرنے کے لیے فوجی مدد کو سرعت سے بڑھا سکتا ہے ، خام خیالی ہے کیونکہ یوکرین جنگ نے بجائے خود یورپ کی معشت اور سماجی ڈھانچہ کو بُری طرح جھنجھوڑ دیا ہے ، یوروپ میں اب یوکرین کی حمایت کا ابتدائی جذب ماند پڑ رہا ہے ، جنگ سے عوامی بیزاری ، فوجی تھکاوٹ میں اضافہ اور قومی وحدت میں تیزی سے ابھرتی دراڑیں اس امر کی مقتضی ہیں کہ یوروپ کو یوکرین جنگ میں اپنی بقا کو داو پہ نہیں لگانا چاہئے ۔ یوروپ کے حربی ماہرین بتا رہے ہیں کہ طاقت کا توازن فیصلہ کن طور پر روس کے حق میں بدل گیا ، یوکرین کی طرف سے توازن کو اپنے حق میں کرنے کی کوئی بھی کوشش مزید علاقائی نقصانات کا موجب بنے گی ۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطلی ، عالمی نگاہیں برصغیر پر مرکوز، چین ، برطانیہ میدان میں آگئے
تلخ حقیقت یہی ہے کہ کیف ، کریمیا کی واپسی کے لیے درکار ضروری حالات پیدا کرنے کی سکت نہیں رکھتا ، اس لئے تنازعہ جتنا لمبا ہوتا جائے گا، روس اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جائے گا ۔ اسی تناظر میں مغربی ماہرین یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اپنے تزویراتی مقاصد پر نظر ثانی کے مشورے دے رہے ہیں کیونکہ صرف فوجی حل پر انحصار اور یہ خیال کہ فوجی امداد میں اضافہ فتح کا باعث بنے گا ، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ، یوکرین کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی خاطر متبادل حکمت عملی تلاش کرنا ہو گی ۔ اس میں سفارتی حل کی طرف جانا ترجیح اول ہونا چاہئے ، روس کے ساتھ بات چیت میں مشغولیت اور بین الاقوامی ثالثی کی پیروی یوروپ کو اَن دیکھی تباہی سے بچا سکتی ہے ۔ اگرچہ حتمی امن معاہدہ کے فطری نتائج کو قبول کرنا دشوار ہو گا لیکن اب بھی یہی تجویز سب سے زیادہ عقلی اور قابل عمل راستے کی نمائندگی کرتی ہے ۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر