آٹھ فروری کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی:ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آٹھ فروری کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی،پی ٹی آئی کے کارکن کسی نتیجے کے بغیر تحریک جاری رکھیں گے ۔
اڈیالہ روڈ ماربل فیکٹری ناکے کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نتائج کچھ بھی ہوں ، ہماری جدوجہد جاری رہے گی، آٹھ فروری سے پہلے یا اس کے بعد نئی تاریخ بھی دی جا سکتی ہے۔
ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت نے بتایا کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی سٹریٹ موومنٹ کے باعث ہمیں کامیابی ملی، محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا ، دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔
شفیع اللہ جان نے بتایا کہ وہ سلیکٹ نہیں الیکٹ ہوئے ہیں، آٹھ فروری کوئی ہماری فائنل کال نہیں ہے،جب ہم سمجھیں گے کہ سٹریٹ موومنٹ میں جان پڑ گئی ہے، اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں پھر ہم اپنی حکمت عملی وضع کر کے اعلان کر دیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ دیکھ لیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے ملک گرل دوروں کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، سندھ ہو ،کے پی کے ہو پنجاب ہو سٹریٹ موومنٹ میں عوام شریک ہیں ، آٹھ فروری کی کال کی بات ہے تو وہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کال دے رکھی ہے،ملک گیر پہیہ جام ،شٹر ڈاؤن ہڑتال کی آٹھ فروری کو انہوں نے کال دی ہے ۔
ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت نے بتایا کہ ہم نےآٹھ فروری سے متعلق کوئی شرائط نہیں رکھی،آپ لوگوں نے رانا ثنا اللہ کا بیان تو پڑھا ہوگا کہ آٹھ فروری کی کال نہیں واپس لی گئی تو پھر نو مئی کے کیس کھولے جائیں گے،ثابت یہ ہوتا ہے کہ نو مئی کے مقدمات انتقامی اور سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں۔
شفیع اللہ جان نے نےبتایا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مقدمات جعلی ہیں، آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں،کبھی گورنر راج لگانے کی، کبھی مقدمات کی ،نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی، اس کے علاوہ 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی، کسی صورت بھی نہیں لی جائے گی ۔
دریں اثنا بانی پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا نے ماربل فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے، عدالتیں بے اثر ہو چکی ہیں، میڈیا کا گلا گھونٹا جا چکا ہے، پارلیمنٹ کو بندوق کے زور پر فتح کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے عدالتی احکامات موجود ہیں، ایک سپاہی عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے،بانی پی ٹی آئی کو ڈیڑھ سے دو ماہ سے تنہائی میں رکھا گیا ہے، ہم پرامن لوگ ہیں، نہ شیشہ توڑا ،نہ گملہ توڑا، آج بھی سورۂ یٰس کی تلاوت کے ساتھ پرامن دھرنا جاری ہے۔
شوکت بسرا نے کہا کہ ملاقات تک یہاں پرامن طور پر بیٹھے رہیں گے، چینلز پر ہماری آواز روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،بڑی تعداد میں کارکن ناکے پر پہنچ چکے ہیں، محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانا بانی پی ٹی آئی کی ہدایت تھی، بانی پی ٹی آئی جیل سے حکم دیں تو فیصلے نافذ ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ جدوجہد مذاکرات اور بہتری کی طرف جائے گی،اسٹیبلشمنٹ کے اقدامات سے پاکستان کا نام نیچے جا رہا ہے،عوام میں نفرت اس حد تک ہے کہ لوگ انہیں گھروں میں قبول نہیں کریں گے،سچ جلد عوام کے سامنے آ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی: وزیر اعظم