بھارت کو گردن سے دبوچنے کا مشن

تحریر:عدیل احمد

Sep 19, 2025 | 12:59:PM
بھارت کو گردن سے دبوچنے کا مشن
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

مئی 2025 میں پاک بھارت جنگ کے بعد ایک خبر سوشل میڈیا پر زیر گردش تھی کہ پاکستان اور چائنہ بہت جلد بنگلہ دیش میں ایک فوجی بیس بنانے والے ہیں جہاں سے بھارت کی گردن دبوچی جائے گی لیکن اس کے بعد یہ خبر غائب ہو گئی یہ گزشتہ چند دن سے یہ خبر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے کہ چین اور پاکستان کی کمپنیاں مبینہ طور پر بنگلادیش میں ایک بڑے فضائی اڈے کی تعمیر شروع کر چکی ہیں اور بنگلہ دیش کے ’لالمنیرہاٹ‘ ضلع کا نام زیر گردش ہے جہاں پاکستان اور چائنا کی مشترکہ فوجی بیس کی تعمیر جاری ہے گو کہ ان خبروں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور یہ رپورٹس زیادہ تر غیر مصدقہ ذرائع سے سامنے آئی ہیں لیکن اس مبینہ فضائی اڈے کی خبروں نے بھارت میں تشویش ضرور پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ جگہ ’چکن نیک‘ کہلائے جانے والے ’سلیگوڑی‘ کوریڈور کے قریب واقع ہے، اطلاعات کے مطابق یہ ممکنہ فوجی اڈہ شمالی بنگلادیش کے علاقے ’لالمنیرہاٹ‘ میں بنایا جا رہا ہے ،،، اور کہا جا رہا ہے کہ اس کی فوجی اڈے کی تعمیر میں چینی اور پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں جبکہ ایک پاکستانی کمپنی شاید ذیلی ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہی ہے، بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش اس جگہ کا محلِ وقوع ہے کیونکہ ’سلیگوڑی‘ کوریڈور بھارت کے لیے ایک نہایت کمزور اور حساس علاقہ ہے جو اسٹریٹیجک لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، شمال مشرقی بھارت کے پڑوسی ممالک جیسے بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور چین کے قریب واقع ہونے کی وجہ اس راہداری کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اگر اس راہداری کے بات کریں تو یہ ایک تنگ راہداری ہے جس کی لمبائی تقریبا 60 کلومیٹر اور چوڑائی صرف 22 کلومیٹر ہے جو بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو دوسری ریاستوں سے جوڑتی ہے جن میں ’ناگالینڈ‘، اروناچل پردیش، آسام اور منی پور جیسی ریاستیں شامل ہیں، یہ خطہ ایک راہداری کو بقیہ بھارت سے جوڑتا ہے جسے ’سلیگوڑی‘ کوریڈور یا ’چکن نیک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ راہداری بھارت کی مغربی بنگال ریاست میں واقع سلی گوڑی شہر سے گزرتی ہے اس لیے وہاں چین اور پاکستان کی ممکنہ فوجی موجودگی کو سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ ’چکن نیک‘ کے بالکل قریب بنگلہ دیشی علاقے میں بنائے جانے والے اس فضائی اڈے پر چینی ساختہ جے-10 سی اور پاکستانی ساختہ جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری طیارے تعینات کیے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر پاکستان کے تباہ کُن میزائل بھی نصب کر دیے گئے تو بھارت کی مشرقی مور مغربی دونوں سرحدیں پاکستان کے نشانے پر ہوں گی۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تعمیرات شروع ہو گئی ہیں لیکن اب تک اس کی کوئی سرکاری یا معتبر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی لیکن یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چین کے بنگلادیش میں بڑھتے ہوئے انفراسٹرکچر اور دفاعی تعاون پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر