نورِ سحرمیں’’رسول اکرم ﷺ کا لیڈرشپ ماڈل اور جدید دنیا کے چیلنجز‘‘موضوع پر بصیرت افروز علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ آج کی دنیا کو درپیش تمام تر چیلنجز کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز اسلامی سکالرز، محققین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔
نشست کا مرکزی موضوع "رسول اکرم ﷺ کا لیڈرشپ ماڈل اور جدید دنیا کے چیلنجز" تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ آج کی دنیا کو درپیش تمام تر چیلنجز کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود ہے۔
انہوں نے حضرت علیؓ کا قول نقل کیا کہ "انسان کی عظمت یہ ہے کہ دشمن بھی اس کی تعریف کرے" اور مغربی مفکرین ایچ جی ویلز اور لامارٹن کے حوالے سے رسول اکرم ﷺ کی قیادت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنی اسرائیل کی تباہی عدل و انصاف سے انحراف کے سبب ہوئی، آج کی مسلم قیادت کے لیے یہی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ عدل و صداقت کو اپنائے۔
معروف مذہبی سکالر مولانا امیر حمزہ نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت کو تاریخِ انسانی کا بے نظیر ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا:"میں چیلنج کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں نبی کریم ﷺ جیسا لیڈرشپ ماڈل کوئی پیش نہیں کر سکتا۔
انہوں نے سیرتِ طیبہ کے مختلف واقعات خصوصاً حاتم طائی کے بیٹے کی عزت افزائی کو قیادت میں نرم خوئی اور اخلاق کی اعلیٰ مثالیں قرار دیا۔
ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی نے کہا کہ"اصل لیڈر وہی ہوتا ہے جو قوم کو مقصد بھری زندگی کا وژن دے"
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی عدل، انصاف اور معافی کے اصولوں پر استوار کی۔
انہوں نے فتح مکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے دشمنوں سے حسن سلوک کر کے قیادت کے اعلیٰ ترین اصول دنیا کے سامنے پیش کیے۔
پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے "Level 5 Leadership" کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "رسول اکرم ﷺ آزمائش میں صبر اور کامیابی میں شکر کا عملی مظاہرہ کرتے تھے۔"
انہوں نے کہا کہ اگر امت مسلمہ بیدار ہو جائے تو دنیا کی قیادت اس کا مقدر بن سکتی ہے۔
پروفیسر کاظمی نے دعویٰ کیا کہ"جدید دنیا کے کسی بھی لیڈرشپ ماڈل میں وہ جامعیت، بصیرت اور اخلاقی بلندی نہیں جو سیرتِ رسول ﷺ میں موجود ہے۔