خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ

Jun 19, 2026 | 18:50:PM
خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ
کیپشن: سپریم کورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری)سپریم کورٹ نے سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل زاہد کی برطرفی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ،جسٹس شاہد وحید نے فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کی اپیل منظور کرتے ہوئے برطرف جج کی سزا بحال رکھی اورافضل زاہد کی ملازمت پر بحالی کی درخواست مستردکردی،سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا جبری ریٹائرمنٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے کہاکہ جج کیلئے اچھی شہرت انصاف کی بنیادی شرط ہے،خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، جج کی ساکھ پر سوال اٹھ جائے تو عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے  کہ جج کیلئے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے،بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جج کی شہرت مشکوک ہو تو عوام کا انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے، عدلیہ کو صرف انصاف نہیں بلکہ انصاف کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، بدعنوانی ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت سنگین معاملہ ہے، خراب شہرت والے جج کی برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی منصب پر رہنے کیلئے بے داغ ساکھ ناگزیر ہے، جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کی عدالتی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو مراعات کے ساتھ ریٹائر نہیں کیا جا سکتا، عوامی اعتماد عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:استحکام پاکستان پارٹی کومخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا