بھارتی فلم ’’بارڈر ٹو‘‘پاکستان مخالف گھسے پٹے بیانئے کی مثال
تحریر ۔۔۔۔۔زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
بھارتی فلم بارڈر ٹو کے ٹریلر کے ابتدائی مناظر سے ہی یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ فلم کا مقصد نہ تاریخ بیان کرنا ہے، نہ حقیقت دکھانا اور نہ ہی فن کو فروغ دینا بلکہ خالصتاً جھوٹے واقعات، من گھڑت جنگی مناظر اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو نئی نسل کے ذہنوں میں ٹھونسنا ہے۔
بھارےئ اداکار سنی دیول ایک بار پھر وہی پرانا کردار نبھا رہے ہیں جس میں مکالمہ کم اور چیخیں زیادہ ہیں، اداکاری کم اور اشتعال انگیزی زیادہ ہے، اور دلیل کی جگہ صرف نفرت نے لے لی ہے, ٹریلر میں دکھائے گئے جنگی مناظر، فوجی کیمپ، سرحدی جھڑپیں اور خاص طور پر لاہور کو نشانے پر رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فلم ساز جان بوجھ کر پاکستان کے ایک زندہ، تاریخی اور ثقافتی شہر کو خوف کی علامت بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں.
دلجیت دوسانجھ جیسے مقبول گلوکار و اداکار کی شمولیت بھی اس تلخ حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ جب کوئی فنکار ایسے پروجیکٹ کا حصہ بنتا ہے تو وہ صرف فلم نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی اور نفرت انگیز بیانیے کا حصہ بھی بن جاتا ہے , ٹریلر میں پاکستان کو ہمیشہ جارح، دھوکے باز اور جنگ کا شوقین دکھایا گیا ہے جبکہ بھارت کو مظلوم، بہادر اور حق پرست بنا کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ وہی بھارت ہے جس کے جھوٹے دعوے حالیہ برسوں میں دنیا کے سامنے بار بار بے نقاب ہو چکے ہیں۔
اگر ہم حالیہ جنگی کشیدگی کا ذکر کریں تو سچ بالکل مختلف نظر آتا ہے وہ سچ جو فلمی اسکرین پر نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں لکھا گیا وہ سچ جس میں پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، تحمل اور دفاعی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور بھارتی جارحیت کا ایسا جواب دیا جو تاریخ کا حصہ بن گیا حالیہ جنگی صورتحال میں جب بھارت نے روایتی تکبر اور غلط اندازوں کے تحت اشتعال انگیزی کی تو پاکستانی فضائیہ نے اپنی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا بلکہ ایک ٹھوس حقیقت تھی جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی چونکا دیا .
اس واقعے کی گونج امریکہ تک پہنچی اور خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متعدد مرتبہ یہ کہنا پڑا کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی تھی، دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے تھیں اور جنگ مکمل تباہی کی طرف جا سکتی تھی یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ دعوے کچھ بھی ہوں، حقیقت میدان میں لکھی جاتی ہے اور وہاں پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا جانتا ہے.
ایسے میں بارڈر ٹو جیسے فلمی پروجیکٹس دراصل اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں جب میدان میں ناکامی ہو تو اسکرین پر جھوٹ گھڑا جاتا ہے جب فضاؤں میں حقیقت سامنے آ جائے تو فلمی کیمروں کے سامنے فرضی بہادری بیچی جاتی ہے, بھارتی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلمی ہیرو اصل ہیرو ہیں اور چیخ چیخ کر مکالمے بولنے والے اداکار قوم کی عزت کے محافظ ہیں حالانکہ اصل محافظ وہ ہوتے ہیں جو بغیر شور کیے سرحدوں پر کھڑے ہوتے ہیں.
جان دیتے ہیں اور ملک کا دفاع کرتے ہیں لاہور کو ٹریلر میں ٹارگٹ کرنا بھی کوئی اتفاق نہیں لاہور ہمیشہ سے دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے کیونکہ یہ شہر صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مزاحمت، غیرت، ثقافت اور جرات کی علامت ہے لاہوریے واقعی زندہ دل ہیں مگر یہ زندہ دلی کسی کمزوری کا نام نہیں بلکہ دشمن کو پہچاننے، اس کی نیت سمجھنے اور وقت آنے پر پوری قوت سے جواب دینے کی صلاحیت کا اظہار ہے تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی لاہور کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا اسے یا تو پسپا ہونا پڑا یا ذلت اٹھانی پڑی۔
سنی دیول صاحب اور بارڈر ٹو بنانے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ فلموں میں پاکستان کو کمزور دکھانے سے پاکستان کمزور نہیں ہو جاتا اور نہ ہی جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ بن جاتا ہے دنیا اب فلمی سکرپٹس سے نہیں بلکہ حقائق، شواہد اور زمینی حقیقتوں سے فیصلے کرتی ہے اور یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ جنگ سے گریز کیا، امن کی بات کی اور مذاکرات کو ترجیح دی لیکن جب اس پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے اپنے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا بالی ووڈ اگر واقعی خود کو عالمی سینما کہلوانا چاہتا ہے تو اسے نفرت، تعصب اور جنگی جنون سے باہر نکلنا ہو گا کیونکہ پاکستان مخالف فلمیں بنا کر نہ بھارت کے عوام کو سچ بتایا جا رہا ہے اور نہ ہی خطے میں امن کی کوئی خدمت ہو رہی ہے بلکہ صرف ایک نئی نسل کو جھوٹ، تعصب اور نفرت کے ساتھ پروان چڑھایا جا رہا ہے جو مستقبل میں مزید تنازعات کو جنم دے گا
بارڈر ٹو کا ٹریلر دیکھ کر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارتی سینما کے پاس پاکستان کے علاوہ کوئی اور موضوع نہیں بچا کیا وہاں غربت، بے روزگاری، مذہبی انتہا پسندی، اقلیتوں پر ظلم اور اندرونی تضادات اتنے غیر اہم ہو چکے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل پاکستان کو ولن بنا کر پیش کرنا ہی سمجھا جاتا ہے یہ فلم دراصل ایک آئینہ ہے جو بھارتی ریاستی بیانیے، سیاسی مقاصد اور ذہنی انتشار کو بے نقاب کرتا ہے.
پاکستان نہ اس طرح کی فلموں سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اپنی تاریخ، قربانیوں اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی کو شک کرنے دیتا ہے کیونکہ قومیں فلموں سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں اور پاکستان نے اپنا کردار میدان میں، سفارت کاری میں اور عالمی سطح پر بار بار ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جسے کمزور سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :محکمہ تعلیم نے ہفتے اور اتوار کو دفاتر میں چھٹی بند کردی