ایران امریکہ مذکرات؛ امریکی ایرانی نمائندے کتنی مرتبہ اٹھ کر گئے، فیلڈ مارشل، اسحاق ڈار نے کیا کیا؟ اندر کی کہانی سامنے آگئی

Apr 19, 2026 | 20:53:PM
ایران امریکہ مذکرات؛ امریکی ایرانی نمائندے کتنی مرتبہ اٹھ کر گئے، فیلڈ مارشل، اسحاق ڈار نے کیا کیا؟ اندر کی کہانی سامنے آگئی
کیپشن: 6 مرتبہ یہ ہوا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوئی، پھر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار صاحب دوبارہ بٹھا لیتے تھے۔ کم گو ایاز صادق کا لاہور مین دلچسپ انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بند کروانے کے لئے مذاکرات میں پاکستان نے کیسے متحارب ملکوں کے رہنماؤں کو سمجھا بجھا کر بات کو نتیجہ خیز بنایا؛ اندر کی کہانی سامنے آ گئی۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کے سپیکر، سینئیر پارلیمنٹیرین ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران وفود  اٹھ کرچلے جاتے تھے مگر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار انہیں روک کر بٹھا لیتے تھ۔

ایاز صادق نے لاہور میں میڈیا آؤٹ لیٹس کے نمائندوں کے سوالات کے جواب میں دلچسپ انکشافات کئے۔ 

اسلام آباد مذاکرات میں معجزے ہوئے

سیاست کے امور میں بہت کم اور بین الاقوامی سیاست پر اس سے بھی کم بات کرنے والے ایاز صادق نے لاہور کے صحافیوں کو بتایا کہ اسلام آباد مذاکرات میں واقعی معجزے ہوئے ہیں، دنیا کی تاریخ میں یہ تیسری عالمی جنگ روکنے کے مترادف ہے۔

سپیکر ایاز صادق نے انکشاف کیا  کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران دونوں اطراف کے وفود  گرما گرمی کے بعد اٹھ کر چلے جاتے تھے لیکن اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ان کو دوبارہ بٹھا دیتے تھے۔

سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوتی تھی تو چلے جاتے تھے، 6 مرتبہ یہ ہوا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوئی، پھر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار صاحب دوبارہ بٹھا لیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعی معجزے ہوئے ہیں، دنیا کی تاریخ میں یہ تیسری عالمی جنگ روکنے کے مترادف ہے، میں ترکی گیا وہاں پر دیگر ممالک کے سربراہان روک کر مجھے کہتے تھے کہ آپ جو کام کررہے ہیں ہم اس کے لیے دعا گو ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان کی کوششوں کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار گرگئے فریکچر ہوا مگر اگلے دن چین چلے گئے، امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان پہلا ملک تھا جس نے جنگ کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ میری جن لوگوں سے ملاقات ہوئی سب بہت خوش ہیں، ہم روس، چین، امریکہ اور ایران سے دوستی رکھتے ہیں، بھارت سے ہماری دوستی نہیں ہے۔

نئے سپہ سالار کا تقرر نواز شریف کا بہترین فیصلہ تھا
انہوں نے کہا کہ نیت ٹھیک ہواورآپ کوشش کریں تو اللہ تعالی راستے بناتا ہے۔ پاکستان کی تقدیر 2022 سے بدلنا شروع ہوئی۔  2022 میں حالات اتنے مشکل تھے کہ  پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی نہیں آنا چاہتا تھا،۔ بہت مشکل حالات تھے، مہنگائی تھی، مشکلات تھیں؛  لیکن ہماری جماعت نے مشکل فیصلہ لے لیا اور وہیں سے نئی ٹیم کی بنیاد رکھی گئی اور ملک کو قدموں پر کھڑا کرنا شروع کیا۔ یہ  وہی وقت تھا  جب پاکستان آرمی میں نئے سپہ سالار آئے، ہم کہتے ہیں نئے سپہ سالار کا  آنا نواز شریف کا فیصلہ بہترین تھا، نئی حکومت میں وزیر اعظم  شہباز شریف کے لیے پہلے سے زیادہ چیلنجز تھے۔

مودی ڈس اپوائنٹ ہوا

 ایاز صادق نے کہا کہ پڑوسی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی سمجھتے تھے کہ شہباز شریف پچھلے وزیر اعظم کی طرح کہیں گے، " کیا ہندوستان پر حملہ کردوں!"، لیکن (مئی 2025میں) پاکستان کی مرکزی قیادت نے بیٹھ کر ایک ہی فیصلہ کیا کہ پاکستان کی عزت بحال کرنی ہے، وزیر اعظم نے اس وقت دنیا کے تمام ممالک سے رابطہ کرکے کہا کہ آؤ تحقیقاتی ٹیم بنا کر (22 اپریل 2025 کو پہلگام میں حملے کے جھوٹے الزام کی) انکوائری کروالو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے پاکستان کے پاس پیسے نہیں لیکن پاکستان نے 10 گنا بڑی طاقت کو شکست دی، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے اہم کردار ادا کیا، ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

معیشت کے حالات اور ترقی

 ایاز صادق نے کہا کہ پچھلی حکومت کی توجہ تعمیر اور ترقی پر نہیں تھی بلکہ خود پر تھی۔ میں نواز شریف، شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے حلقے کے لیے 38 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے اور مجھے لگتا ہے کہ اس سال کے آخر تک پورے پنجاب کی سڑکیں مکمل ہوجائیں گی۔

 ایاز صادق نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک مہنگائی سے متاثر ہوا ہے، 12 تاریخ کو مجھے بتایا گیا کہ ڈرافٹ ایگریمنٹ بن رہا ہے لیکن نہیں ہوسکا اور دونوں وفود چلے گئے، ہمیشہ خدشہ تھا ایران اور امریکہ کے جہاز پر کوئی شرارت ہو گئی تو سب چکنا چور ہوجائے گا، اگر اسلام آباد سے 20 میل دور بھی بم پھٹتا تو لوگ واپس چلے جاتے۔

 انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سب کی نیت بہترین ہے، 47 سال میں یہ لوگ کسی ایک ملک یا شہر میں اکٹھے نہیں ہوئے لیکن پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے۔

 پی ٹی آئی کے بانی کا نام لئے بغیر ایاز صادق نے کہا، "میں سوچتا ہوں، میں وہاں بیٹھا ہوا تھا  جب وہ کہتے تھے,  "کیا میں ہندوستان پر حملہ کردوں!"، اب کہاں سے یہ سب آگیا۔"

ہم کہتے ہیں پاکستان کی بات کرو، وہ کہتے ہیں بانی کی آنکھ کا آپریشن کروا دو

ایاز صادق نے کہا کہ ہماری بھی (اسٹیبلشمنٹ سے)لڑائی ہوئی لیکن ہم نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا، مسلم لیگ (ن) نے کبھی افواج پاکستان کی کسی گاڑی کو نقصان نہیں پہنچایا، ہم کہتے ہیں پاکستان کی بات کرو۔ وہ کہتے ہیں لیڈر کی آنکھ کا آپریشن کروا دو حالانکہ جتنی آسائشیں ان کو مل رہی ہیں آج تک کسی کو نہیں ملیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہم ہمیشہ پاکستان کی بات کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے خوش ہوتا ہے تو چیزوں کو  جوڑنا شروع کردیتا ہے۔  آج دنیا میں سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے ہیں۔  کس کو کیا پتا تھا کہ شہباز شریف، فیلڈ مارشل، ایئر چیف، بحریہ  کے چیف اتنا بہترین کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیئے: ٹرمپ نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے کل اسلام آباد پہنچنے کی تصدیق  کر دی