’’نورِ سحر‘‘ میں بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد،معروف اسلامی سکالرز، محققین کی شرکت

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی نظام تک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، سلام کو عام کرنا محبت، اخوت اور امن کے فروغ کا آسان اور مؤثر ذریعہ ہے

Sep 18, 2025 | 10:34:AM
’’نورِ سحر‘‘ میں بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد،معروف اسلامی سکالرز، محققین کی شرکت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں  معروف اسلامی سکالرز، محققین شرکت کی ،جس کا موضوع سلام: محبت اور اخوت کا پہلا قدم، ایک لفظ ہزار برکتیں تھا۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے گفتگو کا آغاز رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد مبارک سے کیا:"آپس میں سلام کو عام کرو"۔

انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی نظام تک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سلام کو عام کرنا محبت، اخوت اور امن کے فروغ کا آسان اور مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کے ہر معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، لیکن اسلام نے جو انداز دیا "السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ"  وہ سب سے اعلیٰ، مکمل اور بابرکت ہے۔

پروفیسر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ سماجی تعلقات کی بنیاد سلام پر ہے،یہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف دلوں کو منور کرتا ہے بلکہ معاشرے میں تحفظ اور اخوت کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "السلام علیکم" کہنا صرف ایک رسم نہیں بلکہ دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معمولی اختلافات کی بنیاد پر سلام ترک کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
انہوں نے اہل معرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گھر میں داخل ہونے پر سلام کرنا، اور اگر کوئی موجود نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا مستحب ہے۔

معروف سکالر اقبال چشتی نے سلام کے لغوی و اصطلاحی مفہوم پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے فرمایا کہ سلام کرنا مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ہے، اور ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے قول و فعل سے دوسرا انسان محفوظ رہے۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ایک واقعہ بیان کیا جس میں ایک عبادت گزار عورت کو بد اخلاقی کی وجہ سے جہنمی قرار دیا گیا، اور بتایا کہ صرف عبادت کافی نہیں، اخلاقیات اور باہمی حسنِ سلوک بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصافحہ سے گناہ جھڑتے ہیں، اور سلام باہمی محبت کا ذریعہ ہے۔

پروفیسر  عمران مرتضیٰ نے کہا کہ سلام صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ گھر، دفتر اور معاشرے میں امن، سکون اور تحفظ لانے کا مجرب نسخہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلام کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ "تمہیں میری طرف سے سلامتی ہے"  یہ احساسِ تحفظ فرد کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلام کا عمل جسمانی، ذہنی، معاشی، معاشرتی اور روحانی صحت کا ضامن ہے، ایسے گھر اور دفاتر جہاں سلام کو رواج دیا جائے، وہاں کا ماحول خوشگوار اور پر کیف ہوتا ہے۔