پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

Nov 18, 2025 | 09:56:AM
  پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(   ویب ڈیسک )پنجاب حکومت نے عام شہریوں کی زمینوں اور جائیدادوں کو قبضہ مافیا، دھوکہ دہی اور جعلسازی سے بچانے کے لیے ایک انقلابی قانون نافذ کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت 31 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ایموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی منظوری دی گئی، اس قانون کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جگہ جس کی ملکیت ہے، اسی کا قبضہ رہے اور غریب اور کمزور شہریوں کی چھوٹی سے چھوٹی جائیداد بھی محفوظ ہو۔

 وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس میں واضح ہدایات دیں کہ قبضہ مافیا کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور عدالتوں میں برسوں سے زیر التوا مقدمات اب صرف 90 دنوں میں نمٹائے جائیں گے۔

اس سلسلے میں صوبے کے ہر ضلع میں 6 رکنی ضلعی ’ڈسپیوٹ ریزولیشن‘ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جن کے کنوینیئر ڈپٹی کمشنرز ہوں گے جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، لینڈ ریونیو آفیسر اور دیگر متعلقہ ضلعی افسران ارکان میں شامل ہوں گے۔

 یہ بھی پڑھیں:شدید برفباری،ہنگامی وارننگ جاری

یہ کمیٹیاں 30 روز کے اندر مکمل طور پر فعال ہو جائیں گی اور انہیں سول عدالتوں جیسے اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں شواہد طلب کرنا، سماعت کرنا اور فوری حفاظتی اقدامات اٹھانا شامل ہے۔ کمیٹی کے سامنے فریقین کو ذاتی طور پر پیش ہونا ہوگا اور وکلا کی نمائندگی کو محدود رکھا جائے گا۔

قبضہ کیسز کے حل کا عمل انتہائی تیز رفتار بنایا گیا ہے۔ متاثرہ شخص پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ویب سائٹ یا ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کروا سکتا ہے، جس کے لیے فرد، نقشہ اور ٹائٹل ڈیڈ جیسی دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا کمپیوٹرائزڈ نظام ریکارڈ کی تصدیق کو ایک دن میں ممکن بنا دے گا۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل سنے جائیں گے اور وکلا کو صرف ایک دن میں تصدیق مکمل کرنی ہوگی۔

اگر قبضہ غیر قانونی ثابت ہوا تو فوری اسٹے آرڈر جاری کیا جائے گا اور 90 دنوں کے اندر حتمی فیصلہ سنایا جائےگا۔

فیصلے کے بعد زمین کی واگزاری کا عمل انتہائی سخت ہے۔ کمیٹی کا حکم ملتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر زمین مالک کو واپس دلائی جائے گی اور اس کے لیے پولیس کی مدد کے ساتھ ساتھ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی جیسی پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے۔

 مزید پڑھیں:یکم اور 2 دسمبر کو چھٹی کا اعلان!

مسئلہ حل کرنے والی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹریبونل سنے گا، جو ہر ضلع میں کم از کم ایک ہوگا اور اپیل کا فیصلہ بھی 90 دنوں میں حتمی طور پر کرے گا۔

اس قانون میں قبضہ مافیا کے خلاف سخت مجرمانہ سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ غیرقانونی قبضہ، دھوکہ یا جبر کے ذریعے جائیداد ہتھیانے پر 5 سے 10 سال قید اور بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جبکہ سہولت کاروں کو ایک سے 3 سال قید اور 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔