افغان طالبان کا کاروباری دہشتگردی ہے، انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مسلح افواج کے ترجمان کا سیدھا بیان
کابل میں سویلین نہیں بھارت کے بھیجے ہوئے ڈرونز کے گودام پر حملہ کیا، دھماکے سارے شہر نےسنے، سویلین ہلاکتوں کا پروپیگنڈا نِرا جھوٹ ہے، اب افغان طالبان کو اپنی پڑ گئی ہے، جنرل احمد شریف چوہدری کا انٹرویو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان ائیر فورس نے کابل میں افغان طالبان کے گولہ بارود کے ڈپو کو تباہ کیا، جہاں حملہ کیا وہاں افغان طالبان کے ڈرونز کا بھی گودام تھا۔
منشیات کا ہسپتال نہیں بھارتی ڈرونز کا گودام
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اییک نیوز چینل کے اینکر سے انٹرویو میں کہا کابل میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، افغان طالبان خود تو ڈرون بنانے کے قابل نہیں، صرف ایک ہی ملک ہے جو انہیں بنے بنائے ڈرون دے رہا ہے۔ یہ بھارت ہے۔
طالبان نشئیوں کا علاج نہیں کرتے، ان سے خودکش حملے کرواتےہیں
کال میں بھارتی ڈرونز کے گودرام اور اسلحے، گولہ بارود کے گوداموں کے پاکستانی ائیر سٹرائیکس میں تباہ ہو جانے کے بعد اپنی شکست کو چھپانے کے لئے ان گوداموں کو منشیات کے ہسپتال کا نام دینے کے مضحکہ خیز الزام کا جواب دیتے ہوئے جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ، نشئی لوگوں کو تو افغان طالبان خودکش حملے کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
کوئی ان سے پوچھے کہ گولے بارود کے گودام میں "نشئیوں کے علاج کا ہسپتال" کیوں بنایا تھا؟
مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پراپیگنڈا جھوٹ ہے۔ افغان طالبان پاکستان مین خودکش حملوں کے لئے جن دہشتگردوں کو بھیجتے ہیں وہ نشئی ہی ہوتے ہیں۔ خود طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں پہنتے، وہ ہر وقت سویلین لباس پہنتے ہیں۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت فراہم کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں۔ انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
دہشتگرد افغان طالبان کی سرکاری بلڈنگوں میں چھپتے ہیں
دہشتگردوں کی قیادت افغانستان میں حکومت کی بلڈنگز کے اندر چھپتی ہے۔ کبھی یہ ایک حکومتی بلڈنگ میں چھپے ہوتے ہیں، کبھی طالبان حکومت کی دوسری بلڈنگ میں جا کر چھپے ہوتے ہیں۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے اینکر کے بار بار گھما پھرا کر کئے سوالات کے جواب میں سٹریٹ فارورڈ کہا کہ افغان طالبان سے بات چیت نہیں، ہمیں دہشتگردوں کے سرغنے چاہئیں۔ ہمیں درکار دہشتگرد وہاں موجود ہیں، ان دہشتگردوں کو ہمارے حوالے کریں۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، کس نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم ہمارے ہیرے جیسے خوبصورت جوانوں کو شہید کرو گے، ہمارے بچوں کو شہید کرو گے اور ہم تم سے بات چیت کریں گے۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افظان طالبان کا کاروبار ہی دہشت گردی ہے۔ ان کی کوئی گارنٹی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا ہمیں کبھی بات چیت کرنے سے انکار نہیں رہا، ہم نے تو ثالثوں کی مدد سے بھی بات چیت کی، لیکن افظان طالبان ہمارے دشمن دہشتگردوں کو پال رہے ہیں، ان سے بات چیت کیا کریں۔
افغان طالبان کا کاروباری دہشتگردی ہے، انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں
جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغان طالبان دہشتگردی کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ آپ خواتین کو جانوروں کی طرح ٹریٹ کریں۔ اسلام مین کہاں لکھا ہے کہ انسانوں میں نسل کی بنیاد پر تفریق کریں اور تعصب برتیں۔
تجارت کے نقصان سے ٹیررزم کے امپیکٹ کا نقصان کہیں زیادہ
ٹیررزم کی کسی کو کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ٹیررزم سے جو نقصان ہو رہا ہے وہ کراس بارڈر کاروبار رک جانے سے ہونے والے معمولی نقصان سے بہت زیادہ ہے۔
جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے کے بعد سے کراس بارڈر ٹیررزم کم ہوا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جو کاروبار کرتے تھے، اسی کے اندر دہشتگردی بھی ہوتی تھی، دہشتگردوں کو بھی سامان کے ساتھ پاکستان کے اندر لے آتے تھے، اب یہ سلسلہ ہم نے روک دیا ہے۔
اب نہیں۔۔۔!
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اب آپ پاکستان میں دہشتگردی نہیں کروا سکتے ۔
آپ یہاں ہمارے بچوں کو ہماری عورتوں کو شہید کریں گے تو وہاں آپ کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب یہ ہماری واضح اور سیدھی پالیسی ہے۔
خوارجیوں کے سرپرست ظالم جتھے کا اسلام سے کوئی یتعلق نہیں۔
اب افغان طالبان کسی ایک جگہ ایک رات نہیں گزار سکتے
افغانستان کے اندر پاکستان کی حالیہ سرجیکل سٹرائیکس کے امپیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اب یہ دہشت گردوں کے سرپرست افغان طالبان کسی ایک جگہ پر ایک رات نہیں گزارتے ۔ اب یہ خود بھی اور اپنے دہشتگردوں کو بھی ساتھ لئے لئے ایک سے دوسری جگہ چھپتے پھرتے ہیں۔ اس وقت دہشتگردوں کے سرپرست افغان طالبان ریجیم والوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔
اٖفغانستان کے اندر بھی دو سو سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے ہیں۔
سات سو سات خوارج اور افغان طالبان کو مار چکے ہیں ۔ تمام چوکیاں جہاں سے یہ پاکستان کے اندر دہشتگردوں کو گھساتے تھے، وہ سب ہم نے تباہ کر دی ہیں۔
ٹیررسٹ کونٹینٹ کریئیٹر
اینکر نے کہا کہ پاکستان کی دہشتگردی کو کچلنے کے لئے کامیابیوں کے دوران کچھ لوگ ایک ڈالے پر بیٹھ کر آتے ہیں، پاکستان کے اندر گھس کر کسی بازار میں اپنی ایک ویڈیو بنا لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو اس سے پاکستان کی کامیابیوں کی تصویر دھندلا جاتی ہے۔ اس کے جواب میں جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان سے کچھ ٹیررسٹ صرف کونٹینٹ بنانے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ یہ ایک تصویر کو چھ اینگل سے بناتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ایکویپمنٹ ہوتا ہے۔ یہ یہاں صرف فوٹیج بناتے ہیں۔ ان کا لنک ہے بھارت کے ہینڈلرز کے ساتھ۔، یہ سرف کونٹینٹ کرئیٹ کرتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز انڈیا میں بیٹھے ان کے ہینڈلر بناتے ہیں۔