روزانہ 1ارب کے چالان کرتے ہیں، بجٹ 5کھرب ہے:آئی جی ٹریفک پولیس کا ’’بنام سرکار‘‘ میں جشم کُشا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ایڈیشنل آئی جی پنجاب ٹریفک پولیس وقاص نذیر نے کہا ہے کہ معاشرے میں کوئی بھی کام بغیر سیکھے نہیں کرنا چاہئے، کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے کسی اچھے سے اُستاد سے سیکھ کر پھر کام کرنا چاہئے ، وہ ڈرائیونگ ہو یا کوئی اور چیز لیکن جب اُستاد سے سیکھے بغیر سٹرکوں پر آجاتےہیں تو ہماری ڈیوٹی بن جاتی ہے اُن کو بتانے کی اور اُس کیلئے ہم میڈیا کا بھی استعمال کرتے ہیں اور اپنے ٹریننگ کے مطابق دوسرے اختیارات کو بھی استعمال کرتےہیں۔
24 نیوز کے مقبول پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ کے اینکر زوہیب سلیم بٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا قطعا مقصد چالان کرنا نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے کسی وارڈنز کو ٹارگٹڈ چالان کا کہا جاتا ہے ہم اپنی کارکردگی کا جانچنے کیلئے یہ دیکھتے ہیں کہ سر پر چوٹ لگنے سے ہونیوالے واقعات میں کمی ہوئی یا نہیں،ہلمینٹ نہ پہننے سےلوگوں نے سٹرکوں کا رُخ کیا ہے یا نہیں، سٹرکوں میں حادثات میں کمی ہوئی یا نہیں اور پھر اس کے علاوہ ہم یہ بھی چیک کرتے ہیں کہ کنجکشن پوائنٹس کتنے ہیں جن کو ہٹانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانگی متاثر ہوتی ہے ۔اُنہوں نے بات کوآگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ٹریفک کا بجٹ ساڑھے پانچ کھرب ہے جو ہمیں سرکار ہی دیتی ہے ، اینکر زوہیب سلیم بٹ کے اصرار کرنے پر اُنہوں نے بتایا کہ روزانہ پچاس ہزار کے قریب چالان ہوتے ہیں جو ایک ارب کے بنتے ہیں۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں بات کرتے ہوئے وقاص نذیر نے بتایا کہ پنجاب سیف کے کیمرے سے ہماری کارکردگی بہت زیادہ امپروو ہوئی ہے اور کیمروں کی مدد سے وارڈن کو بھی آسانی ہوئی ہے ، دوسرا یہ کہ وارڈن کبھی تھک کر بیٹھ سکتا ہے ،آرام کر سکتا ہے ،اُس کی نسبت کیمرہ نہیں تھکتا پھر ہمیں ویڈیو بھی مل جاتی ہے جس کے بعد کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ جرم اس نے کیا ہے کیونکہ آپ کے پاس ثبو ت آجاتا ہے اور پھر سب سے زیادہ خاص بات وہ یہ کہ فیوچر کوٹیکنالوجی ٹریفک میں بہت تیزی سے لارہے ہیں جس کا ہمیں بہت فائد ہ ہو رہا ہے ۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا ہم اے آئی کے ذریعے سگنلز کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں جس سے ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کہاں پر ٹریفک جام ہے اور کہاں پر نہیں اور جہاں پر ٹریفک کم ہو گی وہ سگنل خود بخود ہی ٹریفک کو اُس طرف ڈائیورٹ کر دے گا اور اس سسٹم کو ہم بہت پنجاب کے تمام شہروں میں لاگو کر دینگے ۔ اسی طرح اے آئی کو ہم ڈرائیونگ ٹیسٹ کیلئے استعمال کر رہے ہیں جس سے اے آئی ہمیں خود بتائے گی کہ اس بندے کا ٹیسٹ ہے اور اس کو لائسنس ملنا چاہیے یا نہیں اور اس میں شفافیت بھی بہت ہوگی ۔
پروگرام میں اینکر پرسن زوہیب سلیم بٹ نے لاہور کے اشاروں پر کھڑے فقیروں کے حوالے سے پوچھا کہ ان کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں ہوتیںجس کے جواب وقاص نذیر نے کہا یہ ہماری کام نہیں ہے لیکن پھر وارڈنز ان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں وہ پھر اپنی ضمانتیں کرواکر چھوت جاتے ہیں پھر کسی دوسرے سگنلز پر کھڑے ہوکر مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں ملکر ان کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے ، لاہور میں ٹریفک کے معاملات کو درست سمت میںرکھنے کیلئے اینکرپروگرام بنام سرکارزوہیب سلیم بٹ نے پوچھا شہریوں میں ابھی لین اور لائن کی سمجھ نہیں ہے اور اُس کیلئے آپ لوگ کیا کر رہے ہیں جس کے جواب بتایا گیا کہ آج کا لاہور اور پچاس سال پہلے کے لاہور میں زمین آسمان کا فرق ہے پچاس سال پہلے بارہ ہزار گاڑیاتھی لیکن آج پونے تین کروڑ گاڑیاں اُسی لاہور میں جہاں بڑی بڑی عمارتیں تو بن گئی ہے لیکن پارکنگ ، اور تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، لاہور شہر کو دوبارہ سے ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے پھر کہی جا کر یہ معاملہ حل ہوگا۔ وقاص نذیر نے کہا کہ لوگوں کو اپنی گاڑیوں کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنی چاہیے جس سے 80 فیصد مسئلے حل ہو جائینگے ۔
پروگرام میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی جس میں اُنہوں نے بتایا کہ وارڈنز کامقصد چالان کرنا نہیں شہریوں کو اصول و ضوابط سیکھنا ہے ۔پروگرام کے اختتام پر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے سوال پوچھا کہ ایک وارڈن کو ماہانہ کتنی تنخواہ ملتی ہے جس کےجواب میں ایڈیشنل آئی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر نے کہا 40 ہزار کےقریب ملتی ہے جو کہ بہت کم ہے لیکن ہمیں بحثیت پاکستان کے شہری ہونے کی ناطے اور بھی بہت سی چیزوںکے بارے میں سوچنا پڑتا ہے ۔