تیزی کیساتھ ترامیم کا رجحان آئین کی اہمیت کو مجروح کررہا ہے؛مولانا فضل الرحمان

Dec 18, 2025 | 17:25:PM
تیزی کیساتھ ترامیم کا رجحان آئین کی اہمیت کو مجروح کررہا ہے؛مولانا فضل الرحمان
کیپشن: مولانا فضل الرحمان، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوسناک ہے،میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے۔

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے چکوال میں میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہاکہ دیکھیں،اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے، حالانکہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے۔ چھبیسویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ اور ایک ہفتے تک مشاورت ہوتی رہی، بات چیت چلتی رہی اور مفاہمت کے ساتھ اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا۔لیکن ستائیسویں ترمیم میں جبراً دو تہائی اکثریت بنائی گئی اور اسی طاقت کے زور پر اسے پاس کروایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ آئین متنازع بن جائے گا، کیونکہ عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کاکہناتھا کہ پھر انہوں نے جو قانون سازی کی ہے، مثلاً اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی، گھریلو تشدد، اور جنس کی تبدیلی جیسے معاملات۔یہ سب قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ قانون سازی کے دوران جو نوٹس دیئے گئے، ان میں اقوامِ متحدہ کے منشور اور ان کے اغراض و مقاصد کی پیروی واضح نظر آتی ہے۔

ان کاکہناتھا کہ ہم نے تو آئین کا حلف اٹھایا ہے اور اس آئین میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا حلف شامل ہے۔ ایسی غیر اسلامی قانون سازی ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں۔ اسی لیے ہم نے بائیس دسمبر کو کراچی میں تمام دینی جماعتوں، مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے، جس میں اس حوالے سے ایک حتمی اور متفقہ رائے قائم کی جائے گی۔

سربراہ جے یو آئی کاکہناتھا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک فیصلہ دیا ہے، جو زنا بالجبر کے کیس سے متعلق تھا۔ بیس سال کی سزا کو کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا اور اسے زنا بالجبر کے بجائے زنا بالرضا قرار دیا گیا۔ یہ فرق مشرف دور میں متعارف کروایا گیا تھا، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے۔

آج مسئلہ یہ ہے کہ اگر زنا کا معاملہ ہو تو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور اگر جائز نکاح کا معاملہ ہو تو اس میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تصور کی نفی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کاکہناتھا کہ اول، ان کے پاس اصل مینڈیٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔

دوم، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف مسلم لیگ (ن) کی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

سوم، جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

اسی لئے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ موقف سامنے لانا چاہتے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی کاکہناتھا کہ جہاں تک اٹھائیسویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور۔ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا، لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقلِ کل سمجھتی رہی۔

آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کیلئے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا؟

یہ بھی پڑھیں:نیٹ میٹرنگ پر پابندی،نئے بجلی کنکشنز سے متعلق اہم خبر

ان کا کہناتھا کہ تدبیر اور تدبر کا تقاضا ہے کہ معاملات کے انجام پر نظر رکھی جائے۔ یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں۔ فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروہوں نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے، ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ پچھتر اٹھہتر سالوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے۔ فیصلے سیاستدانوں نے کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہے۔

جہاں تک پراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ اس پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے، اور بائیس تاریخ کو علماء کی کانفرنس میں اس پر واضح موقف سامنے آ جائے گا۔

ان کاکہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوسناک ہے۔ میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے۔

اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان صحافی کے سوال پر جواب میں کہا کہ میرے خیال میں آرمی چیف نے جو نیا سٹیٹس لیا ہے اور اس نئے سٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علماء کے اجتماع سے کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈگری کیس؛جسٹس طارق جہانگیری نااہل قرار