جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرقانونی قرار، عہدے سے ہٹانے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس طارق محمود جج تعیناتی کے وقت وکیل بننے کے اہل نہیں تھے، بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی درست ڈگری نہ رکھتے تھے۔
عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کوڈی نوٹیفائی کرنے اور فیصلے کی کاپی منسٹری آف لاء کو بھیجنے کا حکم دیدیا۔
دوران سماعت رجسٹرار کراچی یونیورسٹی ریکارڈ سمیت پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ طارق جہانگیری نے جعلی انرولمنٹ نمبر سے ایل ایل بی کا امتحان دیا، پابندی کے دوران ہی پیپر کلیئر کئے، کالج کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس، حلال گوشت کی برآمدی پالیسی کی منظوری
رجسٹرار نے عدالت کو بتایا کہ کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری کینسل کردی ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 9 دسمبر کے 2 رکنی بینچ کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی گئی ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست قابل سماعت نہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ میرے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی رٹ کو خارج کیا جائے۔