آبنائےہرمز بندکرکے 'ایران تھوڑا پیارا  (کیوٹ)ہو گیا'؛ٹرمپ مذاکرات کی کامیابی کیلئے بدستور پرامید

Apr 18, 2026 | 20:19:PM
آبنائےہرمز بندکرکے 'ایران تھوڑا پیارا  (کیوٹ)ہو گیا'؛ٹرمپ مذاکرات کی کامیابی کیلئے بدستور پرامید
کیپشن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 اپریل 2026 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں خطاب کر رہے ہیں۔ (فوٹو بذریعہ گوگل)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دینے کے بعد بھی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی کامیابی کے لئے پر امید ہیں۔ ٹرمپ نے ہرمز کی دوسری مرتبہ بندش کو ایران کی "کیوٹ حرکت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کامیاب ہونے کے لئے پر امید ہیں۔ 

اوول آفس مین سینئیر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کئے جانے کے متعلق گفتگو میں ایران کے اس اقدام کو پلے ڈاؤن کیا اور از حد نرمی سے بات کی، انہوں نے کہا  کہ ہرمز کو دوبارہ بند کر کے 'ایران تھوڑا پیارا  (کیوٹ)ہو گیا'، ٹرمپ نے اصرار کیا کہ  بات چیت 'واقعی اچھی طرح سے کام کر رہی ہے'.  

 ہم اب بھی ایرانیوں سے بات کررہے ہیں ، ٹرمپ
بات چیت کررہے ہیں آج رات تک معلومات آجائیں گی ، ٹرمپ۔ ہمیں دن کے آخر تک (واشنگٹن میں ہفتہ کے روز کے آخر تک)آبنائے ہرمز کی صورتحال پر معلومات حاصل ہوں گی۔

ٹرمپ نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا،  "نہیں معلوم ہم نے ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے 47 سال انتظار کیوں کیا."

قاسم سلیمانی کا ایک بار پھر ذکر

اس کے ساتھ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر قاسم سلیمانی کا ذکر کیا، انہوں نے کہا، "ایران میں قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، رجیم کی قیادت کو ختم کیا گیا، سلیمانی بہت سے امریکی فوجیوں کے معذور  ہونے اور ہلاکتوں کا ذمہ دار تھا."

امریکہ کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آج گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے متعلق اپنے کومنٹ میں کہا، "ایران آج آبنائے ہرمز کی بندش کو دوبارہ نافذ کرکے "تھوڑا پیارا" ہوگیا ہے لیکن واشنگٹن ان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور اسے دن کے آخر تک اس معاملے پر معلومات مل جائیں گی۔"

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ آج آبنائے کی بندش کے باوجود ایران کے ساتھ بات چیت "واقعی اچھی طرح سے کام کر رہی ہے"۔

"ہم ان سے بات کر رہے ہیں،" صدر ٹرمپ نے اصرار کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا،  "ہمارے پاس دن کے آخر تک کچھ معلومات ہوں گی۔"

ٹرمپ  کے الفاظ تھے،  کہ آبنائے ہرمز کو  بند کرنے کے فیصلے میں ایران "تھوڑا پیارا" لگا۔

اس تبصرے کے ساتھ ٹرمپ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے وہ (مذاکرات میں) بلیک میل نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ کے الفاظ تھے،  "وہ آبنائے کو دوبارہ بند کرنا چاہتے ہیں،"  "وہ ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتے۔"

ٹرمپ نے مزید کیا کہا؟

صحافیوں کے ساتھ اس اہم گفتگو کے دوران صدر دونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں اور اقدامات کا دفاع کیا اور (سپین کے ھوالے سے) کہا کہ امریکہ  کو کارروائیوں کے لیے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا،  امریکہے مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کیا،ٹرمپ نے واضح کیا کہ  تہران امریکہ کو بلیک میل نہیں کرسکتا، ٹرمپ نے صحافیوں کے چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب میں اصرار کیا کہ ایران سے بہت اچھے مذاکرات چل رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کل یہ کہا تھا کہ (آج) ایران مذاکرات کے ضمن میں خوشخبری ملے گی۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا اور ایران کے سینئیر مذاکرات کار باقر قالیباف اور دیگر سینئیر عہدیداروں نے کہا کہ ایران یورینیم کے ذخیرے کو امریکہ کے حوالے نہیں کر رہا۔ اس کے بعد آج صدر ٹرمپ بولے تو ان کا اصرار تھا کہ مذاکرات میں اچھی خبر ملنے ہی والی ہے۔

امریکہ میں ادویات کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے 
اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، (فیول کی قیمتیں تو بڑھ گئیں لیکن)ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 80 فیصد کمی ہوئی ہے۔

سپین کے متعلق

صدر ٹرمپ نے سپین کی حکومت کے اپنی ایران جنگ سے شدید اختلاف کے متعلق صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا،  امریکہ کو اپنی کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازات کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ان (سپین کے پرائم منسٹر)  کی اجازات کی ضروت نہیں ، اگر ہم چاہیں تو ان کے (سپین کے) اڈے استعمال کرسکتے ہیں ، ٹرمپ نے کہا کہ سپین  نے اپنے ڈیفینس بجٹ پر پانچ فیصد خرچ نہیں کیا۔  سپین کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، سپین کی معیشت کمزور ہوچکی ہے وہ نیٹو میں بھی حصہ نہیں ڈالتے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا

یہ بھی پڑھیئے: آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر فائرنگ ، کئی جہازوں نے رخ موڑ لئے