نیشنل کالج آرٹس کےنوجوان گلوکار نےتاریخ رقم کردی

امریتاپریتم کا کلام سیلاب متاثرین کیلئے نئے انداز میں پھر سے زندہ کردیا

Sep 17, 2025 | 21:09:PM
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سجاد اظہر پیرزادہ) پنجاب کے نوجوان گلوکار رمضان جانی جو انڈیا میں بھی خوب جانے مانے جاتے ہیں، وہ 24 نیوز کےڈیجیٹل چینل 24 ڈیجیٹل کے خاص مہمان بنے،رمضان جانی اپنی متاثرکن آواز میں امریتا پریتم کی مشہور نظم سنارہے ہیں، جس کا لنک 24 ڈیجیٹل کے یوٹیوب چینل پر شیئر کردیاگیاہے۔

امرتا پریتم کا جنم 31 اگست 1919 کو گوجرانوالہ میں ہوا، والد ماسٹر کرتار سنگھ اور والدہ راج کور دونوں گوجرانوالہ کے ایک سکول میں پڑھاتے تھے،امریتاپریتم کی جوانی لاہور میں گزری،اور بعدازاں وہ انڈیا شفٹ ہوگئیں، امریتا پریتم، ایک ایسی شاعرہ، ناول نگار، افسانہ نگار تھیں کہ ان کو ملی شہرت شاید ہی کسی اور خاتون لکھاری کےنصیب میں آئی ہو، ان کی سب سے زیادہ شہرہ آفاق نظم ’اج آکھا وارث شاہ نوں‘ ہے۔ 

امرتا پریتم کی شاعری میں مشرقی عورت خاص طور پر پنجاب کی عورت، مردانہ سماج کے اندر ظلم و جبر، سفاکیت و بربریت کی چکی میں پستی ہوئی نظرآتی ہے۔ پنجاب کی تقسیم سے ان کے دل میں اپنوں سے بچھڑنے کی ایسی آگ بھڑکی کہ اس کا دھواں ان کی نظم ’اج آکھا وارث شاہ نوں میں اٹھتاہوا نظر آتا ہے، اور وہ وارث شاہ سے کہتی ہیں کہ اپنی قبر میں سے بولو اور عشق کی کتاب کا کوئی نیا ورقہ کھولو۔ 

ان کی یہ نظم آج کے سیلاب متاثرین کے حالات پر بھی پوری اترتی ہے، کہ ایسے وقت جب پنجاب کے دریائوں میں دیوانگی کاعالم ہے، اس کی منہ زور لہریں بستیوں کی بستیاں اجاڑ رہی ہیں، ہر طرف لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں، ان کا کلام پھر سے زندہ ہوکر وارث شاہ کو پکار رہا ہے کہ وارث شاہ کہاں ہو، پنجاب کی ایک بیٹی روئی تھی تم نے اس کی لمبی داستان لکھی، آج لاکھوں بیٹیاں رو رہی ہیں وارث شاہ، تم سے کہہ رہی ہیں، اے درد مندوں کے دوست پنجاب کی حالت دیکھو۔

رمضان جانی نے آج کے حالات میں 24 ڈیجیٹل کے یوٹیوب چینل پر اپنی جادوئی آواز میں یہ کلام گا کر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ مخیر حضرات آگے بڑھے اور وارث شاہ کی روایت زندہ کرتے ہوئے مائوں بہنوں اور ان کی فیملی کی حالت زار بہتر کرنے میں دل کھول کر مدد کریں۔ اس کلام کا لنک یہاں شیئر کردیاگیاہے۔