ایف بی آر کا جھوٹا بیانیہ اور حقائق،ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی تہلکہ خیز رپورٹ 

تحریر:محمد وقاص عظیم 

Nov 17, 2025 | 16:24:PM
ایف بی آر کا جھوٹا بیانیہ اور حقائق،ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی تہلکہ خیز رپورٹ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کے متعلق حکومت جہاں عالمی اداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کر ہی ہیے وہاں  صوبوں اور عوام کے ساتھ بھی مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے ، وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ہر شخص ٹیکس چوری میں ملوث ہے ، تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا نہیں کرتا ، کاروباری شخصیات ٹیکس چوری کرتی ہیں ، ایکسپورٹرز اپنا ٹیکس ادا نہیں کرتا ، امپورٹرز غلط بیانی کرتے ہیں ، صوبائی حکومتیں ٹیکس وصولیاں نہیں ، یہ وہ بیانیہ ہے جو ایف بی آر اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پیش کرتا ہے ، اس کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ سے باہر افراد کو کھلی چھوٹ دینا ہے تو ملک کی اشرافیہ سے ٹیکس وصول نہ کرنا سے بھی راہ فرار اختیار کرنا ہے ، اگر آپ ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ رپورٹ کو پڑھیں تو اس میں یہ بات آپ کو کھل کر سمجھ آ جائے گی ۔ 

ایکنامک پالیسی اینڈ بزنسن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری شخصیات نہ صرف ٹیکس ادا کر رہے ہیں بلکہ ان کے اوپر ٹیکسوں کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ ان کی کم ٹوٹ چکی ہے ، رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں پاکستان میں سالانہ ٹیکس وصولیاں 6.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 13.95 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے ، تو سوال یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں یہ 105 فیصد اضافہ کیسے ہوا ؟ 

چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے غیر منصفانہ ٹیکس وصولیوں پر سوال اٹھا دیا ہے ، گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقہ اور تنخواہ داروں کو غیر مساوی ٹیکس نظام پر شدید تحفظات ہیں حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا دعویٰ کر رہی ہے تنخواہ داروں اور کاروباری طبقے پر بے تحاشا بوجھ غیر منصفانہ ٹیکس نظام کا ثبوت ہے حکومت نے گذشتہ برس 5.83 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس جمع کیا 2023-24 میں حکومت نے انکم ٹیکس وصولیوں کی مد میں 4.57 ٹریلین روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا تھا  انکم ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ عوام میں بے چینی پیدا کررہا ہے  حکومت نے گذشتہ برس تنخواہ دار طبقے سے 575 ارب روپے ٹیکس وصول کیا2023-24 میں تنخواہ دار طبقے سے 364 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا تھا بزنس کمیونٹی سے انکم ٹیکس کی مد میں گذشتہ برس 5.3 ٹریلین روپے وصول کیے گئے بزنس کمیونٹی نے 2023-24 میں 4.1 ٹریلین روپے ، پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنیز نے 1.3 ٹریلین روپے ، لسٹڈ کمپنیز نے 866 ارب اور بینکنگ کمپنیز نے 930 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے  ایسوسی ایشن آف پرسنز اور دیگر افراد نے بالترتیب 214 ارب اور 1.12 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا پائیدار معیشت کے لیے متوازن ٹیکس نظام کی اشد ضرورت ہے 2025-26 میں ڈائریکٹ ، ان ڈائریکٹ ٹیکس ، پیٹرولیم لیوی اور صوبائی ٹیکس محاصل سے ٹیکس جی ڈی پی 15 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے

ظلم یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت جو اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتی اس پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈالا جا رہا ہے، مالی سال 2024 اور 25 میں ملکی جی ڈی پی اوسط1.8  فیصد رہی ہے جب کہ اس کمزور معیشت پر 2024 میں 30 فیصد اور 2025 میں  26.4  فیصد ٹیکس وصول کیا گیا ہے ۔ 

ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھ رہا ہے اور لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کر رہے ہیں اس وجہ سے ٹیکس وصولیاں بڑھ رہی ہیں حالانکہ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شخصیات پر ڈالے گئے بھاری ٹیکسز پاکستان کی معاشی پالیسی اور ٹیکسوں کے غیر منصفانہ نظام پر شدید سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں ۔ 

رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں بزنسز سے 131 فیصد اضافی ٹیکس وصول کیا گیا ، کاروباری طبقہ سے ٹیکس وصولیاں 2.2 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں ، اس طرح تنخواہ دارب طبقے سے ٹیکس وصولیاں 206 فیصد بڑھ چکی ہیں ، تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولیاں 188 ارب روپے سے بڑھ کر 580 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں ، ماہرین کے مطابق یہ ٹیکس وصولیاں نہیں بلکہ بھتہ ، تاوان ، یا جگہ ٹیکس ہو سکتا ہے ، کیونکہ 1.8 فیصد کی کمزور رین جی ڈی پی سے یہ بھاری ٹیکس وصولیاں نا قابل برداشت اور فائدے کی بجائے الٹا نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ 

ایف بی آر ہر سال یہ جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ ٹیکسوں کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا ، اس کی دو وجوہات ہیں ، پہلی وجہ یہ ہے کہ ٹیکسوں کا ہدف ہی غیر حقیقی مقرر کیا جا تا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کو جواز بنا کر عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جا سکے ۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے ہی یہ حقیقیت عیاں ہوجاتی ہے، جولائی سے اکتوبر تک ایف بی آر کو 274 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا ہے ، جب کہ ایف بی آر نے اس دوران انتہائی کمزور ترین معیشت سے 3.84 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصول کر لیا ہے ۔ 

وفاقی حکومت کی ایک اور دیدہ دلیری دیکھیں کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں غریب عوام پر انتہائی بحاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ، وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ پر لگائی ہوئی ہے ، کیونکہ جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی ٹیکس محاصل کے تحت صوبوں کو این ایف سی کی مد میں ادا کرنا ہوتی ہے ، اس لیے وفاقی حکومت صوبوں کے حق پر بھی کھلے عام ڈاکہ ڈال رہی ہے ، حیرت کی بات ہے کہ صوبے بھی سسٹم کو چلانے کے لیے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ تین برسوں میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں وصولیوں میں 760 فیصد اضافہ ہوا ، پیٹرولیم لیوی 135 ارب روپے سے بڑھ کر 1160 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ دراصل یہ 1160 ارب روپیہ صوبوں کا ہے ، جس پر وفاق نے قبضہ کرلیا ہے ۔ 

ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران ٹیکسوں کا حقیقی بوجھ 10 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ ایف بی آر کی جانب سے اب یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 18 فیصد تک کیا جائے گا ، یعنی کہ ٹیکس وصولیوں میں مزید 38 فیصد اضافہ کیا جائے گا ۔ جس کا مقصد کمزور معیشت سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنا ہے یا پھر ٹیکس ادا کرنے والے طبقات سے مزید ٹیکس وصول کرنا ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10 فیصد نہیں بلکہ 12 فیصد سے بڑھ چکی ہے ، کیونکہ اگر پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں کو بھی ٹیکس وصولیوں میں شمار کیا جائے تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 12 فیصد سے زائد ہوجاتی ہے ۔ 

ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران ملکی معاشی صورتحال انتہائی نا گفتہ بہ رہی ہے ۔ مالی سال 2023 میں معاشی شرح نمو منفی 0.21 فیصد رہی ، 2024 میں جی ڈی پی 2.58 اور 2025 می3.04 فیصد رہی ، جب کہ 2026 میں 4.2 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، اس دوران براہ راست ٹیکس وصولیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ، یہاں تک کہ 2025 میں براہ راست ٹیکس وصولیاں 56.57 فیصد تک پہنچ گئیں ۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں تضاد ملکی معیشت کے لیے تباہی کا راستہ ہے ، اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں ، غیر دستاویزی معیشت فروغ پا رہی ہے ، سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ 

ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے سفارش کی ہے کہ ملکی معیشت کو چلانے اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کی پالیسی تشکیل دی جائے ، ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں شمار کیا جائے ۔ جی ڈی پی کو بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے ۔ کاروبار دوست پالیسیاں تشکیل دی جائیں ۔ ایف بی آر کے حقیقی ٹیکس ٹارگٹ مقرر کئے جائیں۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر