عید کا چاند کیسے دیکھا جائے، کب اعلان کیا جائے؟ شہری عدالت پہنچ گیا، آج حکم جاری ہوگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
ایک شہری عید کا چاند دیکھنے سے متعلق سرکاری اداروں کو عدالت کے حکم کا پابند کرنے کے لئے درخواست لے کر عدالت پہنچ گیا،عدالت نے اس درخواست کو سماعت کےلیے مقرر بھی کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر عبد اللّٰہ شفیق کی درخواست کی کل سماعت کریں گے۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو حکم دیا جائے کہ شوال کا چاند نطر آئے یا نظر نہ آئے، جو بھی اعلان کرنا ہے، جلدی کریں۔
عبداللہ شفیق نے درخواست میں موقف اپنایا کہ چاند کے نظر آنے یا نطر نہ آنے کے اعلان میں تاخیر سے بعض لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں۔ رات کے وقت تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے سے بازاروں میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے۔
اس درخواست مین کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ انتظامیہ کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے بچانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کریں۔
درخواست میں ی ہبھی استدعا کی گئی کہ عید کی شاپنگ کی دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹس بند رکھنے کا بھی حکم دیا جائے۔
چاند نطر نہ آنے کا اعلان کب ہو؛ کاروباری افراد کیا سوچتے ہیں
عبداللہ شفیق کی رائے سے قطع نظر کاروباری حلقوں میں 29 روزوں کے بعد عید کا چاند دیکھنے کے لئے کئی گھنٹے اجلاس کرنے کے بعد چاند نظر نہ آنے کے اعلان کو خوش دلی سے لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اب دو چاند راتین ہو جائیں گی۔ چاند نظر نہ آنے کا اعلان کچھ گھنٹے تک نہ کیا جائے تو فیمیلیز چاند رات کی طے شدہ شاپنگ کرنے اور بازاروں کی رونقیں دیکھنے کے لئے گھروں سے نکل پڑتی ہیں۔ اس کے بعد اگر اعلان ہو جائے کہ چاند رات آج نہیں ہے تو دوسرے روز رات کو ایک بار پھر بازاروں مین رونق لگتی ہے۔ اور 29 ویں روزے کے بعد والی رات کو بھی تاجر برادری چاند رات سے جڑے بیشتر فائدے حاصل کر چکی ہوتی ہے۔