مخصوص نشستیں نظرثانی کیس،یہاں تو پی ٹی آئی پر قبضہ سنی اتحاد کونسل کا ہے: جسٹس امین الدین خان

Jun 17, 2025 | 15:52:PM
مخصوص نشستیں نظرثانی کیس،یہاں تو پی ٹی آئی پر قبضہ سنی اتحاد کونسل کا ہے: جسٹس امین الدین خان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیلوں پر 11 رکنی آئینی بینچ نے  سماعت کی، بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کہ جبکہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے تفصیلی دلائل دیئے۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے استفسار کیا، ’آج آپ دلائل مکمل کریں گے؟ اگر آج مکمل نہ کیے تو یہ نہ ہو کہ گھر میں داخلہ ہی بند ہو جائے۔ اس پر فیصل صدیقی نے برجستہ جواب دیا کہ ’گھر میں داخلہ تو ویسے بھی بند ہو چکا ہے۔

عدالت میں وکیل اور ججز کے درمیان دلائل کے دوران طنز و مزاح کے ساتھ گہری قانونی بحث بھی جاری رہی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ ’آپ کو یہ خیال کہاں سے آیا کہ عدالتی اختیارات کم ہوئے ہیں؟‘ وکیل نے کہا، ’مجھے کوئی خیال نہیں آیا‘، جس پر بینچ میں قہقہے سنائی دیئے،فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا کوئی مقصد ضرور تھا، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ187 کو 175 کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہوگا۔ میری نظر میں عدالتی اختیارات پر اچھا خاصا تقسیم پڑا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ پرانا 187 اور نیا 187 پڑھیں، فرق واضح ہے جبکہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ نہ ترمیم نہ 184 تین آپ کے کیس سے متعلق ہے تاہم وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سارا کیس ہی اسی سے متعلق ہے۔دلائل کے دوران جسٹس امین الدین نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ نے دلائل ختم نہ کیے تو ہم ختم کریں گے۔‘ ساتھ ہی ریمارکس دیے، ’میرے سوال پر پھر آپ کہتے ہیں وحی نازل ہوتی ہے؟‘

عدالت نے اہم سوال اٹھایا کہ ’کیا 185 میں 187 استعمال ہو سکتی ہے؟‘ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’175(2) سپریم کورٹ کو اختیارات دیتا ہے۔‘عدالت نے استفسار کیا، ’کیا سپریم کورٹ میں 185 میں مقدمہ آیا تھا؟ اور جس دائرہ اختیار میں فیصلہ ہوا کیا وہاں اختیار تھا؟‘ فیصل صدیقی نے کہاکہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس پی ٹی آئی کو انصاف دینے کا آپشن ہی نہیں تھا، جبکہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل اختیار ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا، ’کیا مکمل انصاف فراہمی میں فریق بنے بغیر ریلیف دیا جا سکتا ہے؟‘ وکیل نے کہا، ’بلکل سر، آپ کا اپنا فیصلہ موجود ہے۔‘فیصل صدیقی نے زور دیا کہ مخصوص نشستوں کا مقدمہ پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر التواء تھا، اور ہائیکورٹ نے خود کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی ہوتی تو ہم فیصلہ دیتے۔‘

عدالت نے سوالات کیے کہ ’کیا سنی اتحاد کونسل میں شامل افراد نے کبھی اس سے انکار کیا؟‘ جسٹس امین الدین نے کہاکہ یہاں تو پی ٹی آئی پر قبضہ سنی اتحاد کونسل کا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا، ’بلوچستان میں دو فریقین کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا تو زمین سرکار کی نکلتی تھی اور مزید کہاکہ سرکار ہمارے سامنے نہ بھی ہو تو زمین ہم سرکار کو دیتے تھے کہ اس کی ملکیت ہے۔

عدالت نے پوچھا جن لوگوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے کہ ہم آزاد ہیں، ان کی آزادی کیسے سلب کریں؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا، ’وہ تواپنے گھر چلے گئے جہاں سے نکالا گیا تھا۔‘عدالت نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر طلب کیا اور استفسار کیا، ’کیا آپ نے 39 امیدواروں کو نوٹیفکیشن جاری کیا؟‘ الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ’نوٹیفکیشن عدالتی حکم پر جاری کیا گیا۔

فیصل صدیقی نے الزام لگایا کہ ’الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، جو کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔‘ وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’میں سپریم کورٹ کے مستقبل کو لیکر پریشان ہوں۔‘

جسٹس محمد علی مظہر نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، ’آپ نے 39 ممبران کے تناسب سے مخصوص نشستیں دیں؟‘ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا، ’ہم 39 کی حد تک مخصوص نشستیں نہیں دے سکتے، یہ تو باقاعدہ فارمولا ہوتا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ ’اگر فارمولا ہوتا ہے تو باقی جماعتوں کو مخصوص نشستیں کیوں دیں؟‘ جسٹس مندوخیل نے کہا، ’فیصلہ ہو لینے دیتے، پھر سب کو مخصوص نشستیں دیتے۔فیصل صدیقی نے زور دیا، ’یہ پی ٹی آئی کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘

سماعت کے اختتام پر جسٹس مندوخیل نے کہا، ’یہ سب ہمارے ادارے ہیں، آج میں بیٹھا ہوں، کل کوئی اور بیٹھے گا۔‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا، ’میرے خیال میں اگر کوئی رول ایکٹ اور آئین کے خلاف ہو تو اسے ماننا ضروری ہے جب تک کالعدم نہ ہو جائے۔‘

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ پھر تو الیکشن کمیشن نے بھی ایسا ہی کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میرے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کو لتاڑیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔