بارشوں،سیلاب سےتباہی، 400 سے زائد افراد جاں بحق،راولپنڈی،اسلام آباد میں رین ایمرجنسی نافذ
دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ، ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب، بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) خیبر پختونخوا ،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں سے ہر طرف تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 400 سے بڑھ گئی ، درجنوں افراد لاپتہ جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے پیش نظر رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔
تفصیلا ت کے مطابق خیبر پختونخوا ،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اوررمیں بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 400 سے بڑھ گئی، بونیر میں قدرتی آفت سے سب سے زیادہ 209 اموات ہوئی ہیں، 150 افراد لاپتہ ہیں جبکہ جاں بحق افراد میں 279 مرد،15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طوفانی بارشیں: بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21 افراد جاں بحق
حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے، مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچا،11 گھر مکمل منہدم ہو گئے جبکہ 63 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
بونیر کے پیر بابا میں سکول کے 400 سے زائد طلبہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا، سوات مینگورہ میں سیلاب سے متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے، کئی کئی فٹ تک ملبہ موجود ہے، بڑے بڑے پتھروں کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں جبکہ مکین بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کو امریکہ سے ابتک کا سب سےبڑا جھٹکا،مودی سرکار نے سر پکڑا لیا
خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے جبکہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز راشن اور دیگر امدادی سامان کی ترسیل کر رہے ہیں۔

کلاوڈ برسٹ کے بعد سیلاب کئی گاؤں بہا لے گیا، مکینوں کے آشیانے گرگئے، سیلابی ریلوں میں جانور اور گاڑیاں بھی بہہ گئیں جبکہ بونیر میں ہنگامی حالت نافذ ہے، سوات میں بپھرا دریا راستے میں آنے والی ہر چیز تنکوں کی طرح بہا لے گیا، مینگورہ سے گزرنے والی ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، پانی کے ریلے رابطہ پلوں تک پہنچ گئے۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بونیر کا دورہ کیا اور انہوں نے سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 20، 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔
تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت بھی ان کے ہمراہ تھے,وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سیلاب سے ہونے والی نقصانات اور امدادی کاروائیوں کا جائزہ لیا، متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو جانی و مالی نقصانات اور ریلیف سرگرمیوں کے بارے بریفنگ دی گئی۔
علاوہ ازیں آزادکشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلے دریا پر بنے 6 رابطہ پل بہا لے گئے، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے ، مظفر آباد میں کلاوڈ برسٹ سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں سیلابی ریلوں سےمختلف علاقوں میں تباہی ہوئی،اسکردو میں بھی 5 پل دریا بُرد ہوگئے جبکہ چلاس کے اوچھار نالےمیں متعدد افراد بہہ گئے، 10 جاں بحق ہو چکے ہیں۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کر دیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بارش اور سیلاب کے باعث حادثات میں اب تک 307 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مختلف حادثات میں 23 افراد زخمی بھی ہوئے، زخمیوں میں 17 مرد، 4 خواتین اور دو بچے شامل ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچا، 63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 11 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔
پروونشل اتھارٹی کے مطابق متاثرہ اضلاع کیلئے مجموعی طور پر50 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں، جس میں سے بونیر کیلئے 15 کروڑ روپے جاری کیےگئے جبکہ باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کے لیے 10، 10 کروڑ روپے اور اور سوات کے لیے 5 كروڑ روپے جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں:افسوسناک خبر ، ٹرین خوفناک حادثے کا شکار
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری تازہ ترین ایڈوائزری میں خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سمیت ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کردی گئی۔
این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری کے مطابق 18 اگست سے 22 اگست تک خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارسدہ، ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، ہزارہ، پشاور، صوابی، سوات، وزیرستان اور اطراف کے علاقوں میں معتدل سے تیز بارش کا امکان ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 18 سے 22 اگست کے درمیان استور، سکردو، ہنزہ، شگر، باغ، وادی نیلم، مظفر آباد اور اطراف میں کہیں کہیں بارش متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 184 مرد، 14 خواتین ، 12 بچے شامل ہیں، زخمیوں میں 18 مرد ، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے، مجموعی طور پر 68 گھروں کو نقصان پہنچا، 61 گھروں کو جزوی نقصان ، 7 مکمل منہدم ہوئے۔
حادثات سوات ، بونیر ، باجوڑ ، تورغر، مانسہرہ ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے ، سیلاب اور بارشوں سے باجوڑ اور بٹگرام کے اضلاع زیادہ متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت ٹوٹنے کے قریب؟
آزاد جموں و کشمیر کی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شدید بارش کے بعد آنے والے سیلاب میں ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک بہہ جانے سے رتی گلی جھیل جانے والے 700 سے زائد سیاح پھنس گئے تھے۔
ان سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن رتی گلی میں پھنسے تمام سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کرلیا گیا۔
ایس ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران وادی نیلم سے 98 گاڑیاں اور 700 سے زائد سیاح محفوظ مقام پر منتقل کیے گئے۔
ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے حصہ لیا۔
ایس ڈی ایم اے کے مطابق سیاحوں کو متعلقہ علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی جاتی ہے۔
بونیر میں 184 لاشیں نکال لی گئیں
بونیر میں کلاؤڈ برسٹ اورسیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن میں اب تک 184 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، لاپتا افراد کی تلاش کے لیے رات گئے اندھیرے کے باعث معطل ریسکیو آپریشن صبح ہوتے ہی دوبارہ شروع کردیا گیا۔
حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع بونیر میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنرنیل ہاکنز نے کہا ہے کہ پاکستان میں 200 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والے اچانک تباہ کن سیلاب پر دل بہت دکھی ہے۔
ایکس پر آسٹریلوی ہائی کمشنر نے لکھا کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں میں سیلابوں میں بہادر ریسکیورز بھی ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس مشکل وقت میں آسٹریلیا اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ یکجہتی سے کھڑا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں تمام متاثرین کے ساتھ ہیں۔
بونیر کی تحصیل گدیزی اور پیر بابا کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ مرکزی بازار، رہائشی علاقے اور حتیٰ کہ پولیس اسٹیشن تک پانی میں ڈوب گیا۔ لوگوں کا سامان ان کی آنکھوں کے سامنے بہہ گیا جبکہ اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے۔
ڈی سی بونیر کا کہنا تھا کہ پیربابا میں جس طرح نوجوانوں نے جان پر کھیل کر پنجاب سے آئی ہوئی فیملی کی جان بچائی اس کی مثال نہیں ملتی۔
دریائے نندھیار سے 14 لاشیں مل گئیں
بٹگرام میں دریائے نندھیار شملائی سے 14 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، لاپتہ 7 افراد کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے، گزشتہ روز ڈھیری حلیم میں متعدد گھر سیلابی ریلے کی زد میں آئے تھے سیلابی ریلے میں 28 لوگ بہہ گئے تھے، گزشتہ روز 7 افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔
محکمہ موسمیات نے آج سے مون سون بارشوں میں شدت آئے گی، اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں شدید بارشیں ہوں گی،ترجمان پی ڈی ایم اےکےمطابق، بالائی پنجاب میں کلاؤڈ برسٹنگ کاخدشہ ہے۔ خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی مزید بارش کا امکان ہے۔
دوسری جانب دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، جب کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے،پی ڈی ایم اے قصور کے مطابق گنڈا سنگھ والا ہیڈ سے پانی کا اخراج 75 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
آج صبح 6 بجے دریائے ستلج کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 19.60 فٹ ریکارڈ کی گئی، پی ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہریکے ہیڈورکس سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں بھکی ونڈ، واڑہ حاکو والا، ایمن نگر، بستی بنگلہ دیش، اور چندہ سنگھ شامل ہیں، جہاں کی سڑکیں اور راستے پانی میں ڈوب چکے ہیں،کھڑی فصلیں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جس سے کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔
اسلام آباد میں موسلا دھاربارش،رین ایمرجنسی نافذ،واسا ہائی الرٹ
ادھر راولپنڈی،اسلام آباد میں مون سون کے ساتویں طاقتور اسپیل نے رنگ دکھانا شروع کر دیا، موسلا دھاربارش سے جڑواں شہر میں رین ایمرجنسی نافذ،واسا ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں صبح سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش نے جڑواں شہروں کو بھگو دیا،اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز بشمول ایف-6، جی-6، جی-8، آئی-8، ایف-10، جی-10، بہارہ کہو، ترامڑی اور بنی گالہ میں شدید بارش کے باعث سڑکوں پرپانی جمع ہو گیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے سیدپور میں سب سے زیادہ 47 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گولڑہ میں 45 اور ایچ-8 میں 14 ملی میٹربارش ہوئی۔
راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بھی تیزبارش ہوئی، جن میں ڈبل روڈ، سکس روڈ، کھنہ پل اور سیٹلائٹ ٹاؤن شامل ہیں، شمس آباد میں 16 ملی میٹراور بوکرا میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے بعد واسا اورضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے میں مصروف رہیں تاہم سڑکوں پرپانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریسکیو حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایات
اسلام آباد اور راولپنڈی میں تیز بارش کے باعث اربن فلڈنگ کے خطرے کے پیش نظر ریسکیو حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جڑواں شہروں میں مزید تیز بارشوں کے پیش نظر ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور اہلکاروں کو نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ریسکیو اہلکار کو کٹاریاں،گوالمنڈی اور دیگر نشیبی علاقوں میں بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ والدین بچوں کو نالہ لئی اور بجلی کے کھمبوں کے پاس ہرگز جانے نہ دیں، اربن فلڈنگ سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، بارش کے دوران کمزور اور خستہ حال چھتوں کے نیچے نہ جائیں اور بارش کے دوران ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔