ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کے شکرگزار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر آبنائےہرمز کو ہر طرح کے بحری جہازوں کے لئے کھول دیئے جانے کا اعلان کیا تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام پر پرایران کاشکریہ ایکس پر ہی ادا کر دیا ۔
صدرٹرمپ کاایکس پربیان آ گیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا، "ایران نےآبنائےہرمزمکمل کھولنےکااعلان کردیاہے۔آبنائےہرمزمکمل آمدورفت کیلئےتیارہے۔شکریہ ایران۔"
اس سے پہلے سی این این نے بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے آج جمعہ کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز، جو جنگ کے آغاز کے بعد سے مؤثر طریقے سے بند ہے، جنگ بندی کی بقیہ مدت کے لیے کھلی رہے گی۔
امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان سے اظہار تشکر
اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الگ سے ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور دونوں کو شاندار لوگ قرار دیا۔
ٹرمپ نے اس پوسٹ میں کہا، پاکستان اور اس کے عظیم وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں شاندار لوگ ہیں۔
عباس عراقچی نے کیا کہا تھا
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، عباس عراقچی نے اس اعلان کو اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے درمیان لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان سے جوڑا، جس کا اعلان جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اور آج جمعہ کے آغاز سے ہی یہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کے مطابق، تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کو جنگ بندی کی بقیہ مدت کے لیے مکمل طور پر کھلا قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آرگنائزیشن نے پہلے ہی اعلان کیا تھا۔" عراقچی نے X پر پوسٹ کیا۔
امریکہ ایران جنگ بندی منگل تک جاری رہے گی۔
آبنائے ہرمز کی خصوصی سٹریٹیجک اہمیت
آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 24 میل چوڑی ہے۔
آبنائے ہرمز کے ایک طرف ایران کا ساحل ہے اور دوسری طرف عمان کے ساحل ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان واقع تنگ سمندر سے بہت ہیوی بحری ٹریفک چلتی ہے۔ اس آبنائے کے درمیان میں ان کے خصوصی اقتصادی زونز (ایکسکلیوسِو اکنامک زون/EEZ) کی میٹنگ ہوتی ہے۔
اس قدیمی آبی گزرگاہ کی تنگی ایران کے لیےیہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملہ کرنا آسان بناتی ہے، کیونکہ بحری جہازوں کے پاس بچ کر نکلنے کے کے لیے جگہ نہیں ہوتی اور خطرات سے بچنے کے لیے انتباہ کا وقت بھی نہیں ہوتا۔
