پنجاب فنانس ایکٹ 2026: گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس 2200 سے بڑھا کر 6600 روپے کرنے کی تجویز

Jun 16, 2026 | 19:46:PM
پنجاب فنانس ایکٹ 2026: گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس 2200 سے بڑھا کر 6600 روپے کرنے کی تجویز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، جس میں مختلف ٹیکسز، فیسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل اور ریشنلائزیشن کی متعدد تجاویز شامل ہیں۔

بل کے مطابق پنجاب اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کو الیکٹرانک طریقے سے لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی اور جرمانوں کے نظام میں بھی تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے۔

پنجاب موٹر وہیکلز ٹیکسیشن ایکٹ 1958 کے تحت مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس 2200 روپے سے بڑھا کر 6600 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،موٹر وہیکل ٹیکس کی دیگر شرحوں میں بھی3 گنا تک اضافے کی سفارش شامل ہے۔

بل میں پنجاب فنانس ایکٹ 1973 کے چھٹے شیڈول میں ترمیم کی تجویز بھی دی گئی ہے  جبکہ پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں متعدد اہم ترامیم شامل کی گئی ہیں۔

نئی تجاویز کے تحت ایکٹو ٹیکس پیئر کی نئی تعریف متعارف کرائی جائے گی،دو مسلسل ٹیکس ادوار کے ریٹرنز جمع نہ کرانے والے افراد ایکٹو ٹیکس پیئر نہیں رہیں گے جبکہ معطل یا بلیک لسٹڈ رجسٹریشن رکھنے والے افراد بھی ایکٹو ٹیکس پیئر شمار نہیں ہوں گے۔

بل میں ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے لیے رسک بیسڈ ایویلیوایشن سسٹم متعارف کرانے اور ٹیکس دہندگان کی پروفائلنگ و رسک اسیسمنٹ کا نیا نظام نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مشکوک ان پٹ ٹیکس کلیمز کی جانچ پڑتال کے اختیارات اتھارٹی کو دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ غلط ٹیکس کلیمز، کریڈٹس اور ریفنڈز کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بل کے مطابق جرمانوں کی شرحوں میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے اور بعض خلاف ورزیوں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی سفارش شامل کی گئی ہے۔

مزید برآں کمشنر کی جگہ اتھارٹی کو اختیارات منتقل کرنے کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے,پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد کے لیے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور ایم فور موٹروے توسیعی منصوبے تجویز