مختلف لیبارٹریز میں ٹیسٹوں کے نتائج میں فرق آنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں:ڈاکٹر ملازم حسین

Oct 15, 2025 | 14:36:PM
 مختلف لیبارٹریز میں ٹیسٹوں کے نتائج میں فرق آنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں:ڈاکٹر ملازم حسین
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ملازم حسین بخاری نے کہا ہے کہ مختلف لیبارٹریز میں ٹیسٹوں کے نتائج میں فرق آنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، جن میں مریض کا بلڈ یا دیگر سیمپل دینے کا طریقہ، سیمپل کے لیبارٹری تک پہنچنے کا وقت اور عملدرآمد کا معیار شامل ہیں۔

مارننگ وِد فضا میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف آئی ایس او سرٹیفائیڈ اور سٹینڈرڈائزڈ لیبارٹریز میں ہی ٹیسٹ کروائیں، کیونکہ درست رپورٹ ہی درست علاج کی بنیاد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیپڈ پروفائل جیسے ٹیسٹ کھانا کھائے بغیر، صبح کے وقت اور ہدایات کے مطابق کرانے چاہئیں، کیونکہ کھانے کے بعد یا غلط وقت پر کیے گئے ٹیسٹ کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے پیتھالوجی رپورٹ درست نہ ہو  تو علاج بھی غلط سمت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کے مطابق، جتنا ریڈیالوجی (ایکس رے، سی ٹی اسکین وغیرہ) اہم ہے، مرض کی درست تشخیص میں اتنا ہی پیتھالوجی بھی علاج کا بنیادی حصہ ہے۔

پروفیسر بخاری نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سرکاری لیبارٹریز کے ٹیسٹ معیاری نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور سروسز ہسپتال کی لیبارٹریز کا معیار عالمی سطح کا ہے۔ وہ ٹیسٹ جو نجی لیبارٹریز میں دس ہزار روپے تک کے ہوتے ہیں، سرکاری اداروں میں بالکل مفت کیے جاتے ہیں۔

ایک کالر کے سوال پر کہ کچھ ڈاکٹرز مخصوص لیبارٹریز کی رپورٹ ہی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ انہیں کمیشن ملتا ہے، پروفیسر بخاری نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ کمیشن سسٹم سے متاثر نہ ہوں اور پرائیویٹ سیکٹر کے بجائے پبلک سیکٹر لیبارٹریز کو ترجیح دیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر پرائیویٹ لیبارٹریز خود ٹیسٹ نہیں کرتیں بلکہ سیمپل بڑی لیبارٹریز جیسے آغا خان یا شوکت خانم کو بھجوا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے رپورٹ میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔

 اس لیے عوام کو چاہیے کہ گلی محلوں میں کھلی غیر معیاری لیبارٹریز کے بجائے صرف مستند، تصدیق شدہ اور سٹینڈرڈائزڈ لیبارٹریز کا ہی انتخاب کریں تاکہ نتائج درست اور علاج مؤثر ہو۔