لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا

 ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مریم اورنگزیب

Oct 15, 2025 | 13:49:PM
لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ۔
ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) اورسموگ و موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام کے تحت حاصل ہونےوالے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 211 ریکارڈ کیا گیا ہے جو انسانی صحت کے لیے ’’انتہائی غیر صحت مند‘‘ہوتا ہے,آئی کیو ائیر کے مطابق لاہور آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔
ای پی اے کے مطابق بھارت سے داخل ہونے والی آلودہ ہوا نے فضا میں معلق ذرات کی مقدار میں اضافہ کیاہے جس سے لاہور کا فضائی معیار تیزی سے بگڑ گیا ہے، اس وقت ہوا کی رفتار ایک سے تین کلو میٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں معلق رہنے کے بجائے زمین کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے نظام کے مطابق جمعرات کی صبح سات بجے تک بھارتی دارالحکومت دہلی کا اے کیو آئی 228، افغانستان کے دارالحکومت کابل کا 173 اور بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کا 163 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لاہور 211 کے ساتھ ان شہروں سے بھی زیادہ آلودہ فضا میں شامل ہوگیا۔
آئی کیو ایئر کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور پہلے جبکہ بھارتی شہر کولکتہ دوسرے اور دہلی تیسرے نمبر پر ہے، آئی کیوائیر کے مطابق دوپہر ایک بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈکس 174، کولکتہ کا 154 اور دہلی کا 149 ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:دنیاکے طاقتورترین پاسپورٹس کی نئی درجہ بندی،ایشیائی ملک پہلے نمبرپر
ای پی اے پنجاب کی رپورٹ کے مطابق رات 12 بجے سے صبح 7 بجے تک گجرات میں اے کیو آئی 228، گوجرانوالہ 226، لاہور 211، قصور 182، نارووال 177، ڈیرہ غازی خان 166، فیصل آباد 161، منڈی بہاالدین 159، حسن ابدال اور سیالکوٹ 157، ساہیوال 147، ملتان 144، بھکر 143، مظفر گڑھ 140، سیالکوٹ (دوسرا اسٹیشن) 133، چکوال 129، راولپنڈی 127 اور رحیم یار خان میں 98 ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین نے شہریوں خصوصاً بچوں، بوڑھے افراد، حاملہ خواتین اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، اور غیر ضروری طور پر سڑکوں یا کھلے مقامات پر قیام نہ کریں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔