بےہوش کرکے گینگ ریپ،2پولیس اہلکار پھنس گئے،وائرل ویڈیو کلپس پر شور مچ گیا

Nov 15, 2025 | 21:46:PM
بےہوش کرکے گینگ ریپ،2پولیس اہلکار پھنس گئے،وائرل ویڈیو کلپس پر شور مچ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش کے ضلع بلند شہر  کے کھرجہ نگر تھانہ کے علاقے میں  گینگ ریپ کا شکار  ہونیوالی لڑکی  کی جانب سے پولیس پر سنگین الزامات نے سنسنی مچا دی ہے۔متاثرہ لڑکی نے دو سب انسپکٹرز اکرام اور شبھم راٹھی پر ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔ واقعے کے بعد محکمہ جاتی اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ وائرل آڈیو کلپس نے تنازع کو  مزید بڑھاوا دیدیا ۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ لڑکی کا کہنا ہےکہ 2024 میں تین نوجوانوں نے اس کو کولڈ ڈرنک پلا کر اسے بے ہوش کر دیا، اور پھر اس کا اغوا کر کے اجتماعی آبروریزی کی۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائی لیکن مقدمہ درج ہونے کے باوجود اسے انصاف نہیں ملا اور کارروائی انتہائی سست رہی۔متاثرہ لڑکی نے اب مزید سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تفتیشی افسر سب انسپکٹر اکرام نے اس کیس میں اس کی مدد کرنے کے بہانے زبردستی اس کے ساتھ تعلقات بنائے ۔ اس نے بتایا کہ پولیس کی وردی کا خوف اور کیس بگاڑنے کی دھمکی دے کر داروغہ نے کئی بار اس کا استحصال کیا ۔ 

تفتیشی افسر  اور متاثرہ  لڑکی کے کئی مبینہ قابل اعتراض آڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں اور محکمہ پولیس نے ان کی صداقت کی تصدیق کے لیے الگ سے انکوائری شروع کر دی ہے۔ متاثرہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ جب اس کے شوہر نے انصاف کا مطالبہ کیا تو داروغہ شبھم راٹھی نے اس کو تھانے بلایا، لاک اپ میں بند کردیا اور مار پیٹ کی۔ اس کے علاوہ اس سے 50 ہزار روپے رشوت مانگی گئی اور ڈی آئی جی کو شکایت کرنے پر اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں ملزمان شبھم راٹھی اور اکرام اب بھی اسی پولیس اسٹیشن میں تعینات ہیں جہاں سے یہ کیس شروع ہوا تھا۔ محکمہ پولیس نے ان دونوں کے خلاف ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اعلیٰ افسران کو رپورٹ بھیجی جا رہی ہے۔ پولیس کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ وائرل آڈیو کلپ اور متاثرہ کے تحریری بیان کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اگر الزامات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو دونوں کو معطل کیا جا سکتا ہے، گرفتار کیا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف گینگ ریپ اور بدعنوانی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی جا سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:9مئی حملہ کیس، ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی