امریکہ ایران میں امن معاہدے کےبعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے طے پانے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کی کمی ہوگئی،امریکی خام تیل کی قیمت 80 ڈالر 20 سینٹ ہوگئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 83 ڈالر 26 سینٹ پر آگئی،اماراتی مربن تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات کم ہونے کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں پر دباؤ آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو مثبت اشارہ ملا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی تھی تاہم حالیہ امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی ہے اور قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال رہتی ہے تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی برقرار رہی توآئندہ جمعہ کے روز پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر تک نمایاں کمی کا امکان ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی سفارشات کے بعد کیا جائے گا۔