پی ایم اے کی 2ہزار سے زائد اسامیوں ختم کرنے کی مذمت، عدالت سے ازخودنوٹس کا اپیل

Jan 15, 2026 | 18:57:PM
پی ایم اے کی 2ہزار سے زائد اسامیوں ختم کرنے کی مذمت، عدالت سے ازخودنوٹس کا اپیل
کیپشن: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے ڈاکٹروں کی دو ہزار سے زائد اسامیاں ختم کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے ڈاکٹروں کی دو ہزار سے زائد اسامیوں کے خاتمے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے شدید ترین مذمت ۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسر شاہد ملک نے کہا ہے کہ  سرکاری ہسپتالوں میں گریڈ 18، 19 اور 20 کی ریگولر اسامیوں کو ختم کر کے انہیں لوکم (عارضی) بنیادوں پر تبدیل کر دیا گیا ۔  ڈاکٹروں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے جو پہلے ہی نظام کے اندر مستقل بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد ملک  کاکہناتھا کہ محکمہ خزانہ کی موجودہ بیوروکریسی مسلسل ڈاکٹروں کی اسامیاں ختم کر کے ان کی مد میں مختص فنڈز کو دیگر ہیڈز میں منتقل کر رہی ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ 

ان کاکہناتھا کہ  ڈاکٹروں کو لوکم یا دیہاڑی کی بنیاد پر تعینات کرنے سے پورا محکمہ صحت تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ اس سے نہ صرف سروس سٹرکچر متاثر ہوگا بلکہ سینئر ڈاکٹروں اور ریگولر ڈاکٹروں کی گریڈ 18، 19 اور 20 میں ترقی بھی ناممکن ہو جائے گی۔کیونکہ ترقی کیلئے نشستوں کا ہونا لازمی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے فوری اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے محکمہ خزانہ کے اس نوٹیفکیشن کو معطل کریں، تاکہ بیوروکریسی کو ایسے اقدامات سے روکا جا سکے اور آئندہ بھی اس طرح کی حرکتوں سے باز رکھا جا سکے۔ 

یہ بھی پڑھیں:کیا اب بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی گاڑیاں پاکستان لا سکیں گے؟ اہم خبر آگئی