سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے صنعتوں پر کراس سبسڈی کو ڈیتھ وارنٹ قرار دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے صنعتوں پر کراس سبسڈی کو ڈیتھ وارنٹ قرار دے دیا
سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں کہا کہ توانائی کی قیمتیں صنعتوں کو تباہ کر رہی ہیں،کراس سبسڈی کا بوجھ صنعتوں کے لیے ڈیتھ وارنٹ ثابت ہو رہا ہے،صنعتوں پر 102 ارب روپے کی موجودہ کراس سبسڈی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ صنعتیں سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہیں،اگر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کیا گیا تو عوام کو نقصان ہوگا،گذشتہ دو برسوں میں صنعتوں میں بجلی کی کھپت 7 فیصد کم ہوئی ہے،اس دوران 1 ہزار میگا واٹ کے گیس پر چلنے والے کیپٹو پاور پلانٹس کو بھی گرڈ سے جوڑا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ زراعت میں بجلی کی کھپت 38 فیصد کم ہو چکی ہے،بیشتر زرعی صارفین آف گرڈ پر منتقل ہو رہے ہیں ،ایک کروڑ 10 لاکھ گھریلو صارفین سولر پر منتقل ہوچکے ہیں ،ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دگنی ہوچکی ہے ،اس سے صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ پاور ڈویژن آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے ٹیرف پر دوبارہ مذاکرات کرے ،خاص طور پر کول اور ونڈ پاور پلانٹس کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں،صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی سستی کی جائے ،انکریمنٹل پیکیج کا صنعتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔
یہ بھی پڑھیں:زلزلے کے شدید جھٹکے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے نکل آئے
سابق وزیر نے کہا کہ صنعتیں پہلے ہی اپنے ایکسپورٹ کے آرڈرز کو پورا نہیں کر پا رہیں،صنعتوں کے لیے بجلی کا نرخ 12 سینٹ فی یونٹ ہے،علاقائی ممالک میں بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ سے کم ہو چکا ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی نرخوں کے بغیر صنعتیں بجلی کے استعمال کو بڑھا نہیں سکتیں ،صنعتوں پر کراس سبسڈی کا بوجھ نہ ڈالا جائے ،پاور ڈویژن یقینی بنائے کہ صنعتی صارفین دیگر صارفین کو کراس سبسڈی فراہم نہ کریں ،پاور ڈویژن کو ڈسکوز کی بجلی کھپت کو بغور دیکھنا چاہیے ،اگر سونا دینے والی مرغی کو ذبح کیا گیا تو عوام کو نقصان پہنچے گا۔