آئین کی کمان میں بیوروکریسی ،جسٹس جواد حسن کا بیوروکریسی سے ایک فکر انگیز خصوصی لیکچر 

تحریر ۔۔۔۔ ملک محمد اشرف 

Dec 15, 2025 | 20:42:PM
آئین کی کمان میں بیوروکریسی ،جسٹس جواد حسن کا بیوروکریسی سے ایک فکر انگیز خصوصی لیکچر 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں بیوروکریسی سے جسٹس جواد حسن کا خصوصی لیکچر محض ایک رسمی تربیتی نشست نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی نظم و نسق، آئینی بالادستی اور انتظامی اختیار کی اخلاقی و قانونی حدود پر ایک گہرا اظہار خیال تھا۔ یہ لیکچر اس حقیقت کی یاددہانی تھا کہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد طاقتور اختیارات میں نہیں بلکہ آئین کے تابع نظم و اختیار میں مضمر ہوتی ہے۔

جسٹس جواد حسن نے اپنے خطاب کا آغاز اسی بنیادی نکتے سے کیا کہ پاکستان کا آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک مقدس عمرانی معاہدہ ہے۔ ان کے مطابق سرکاری افسر کا اصل تعارف اس کے عہدے، پروٹوکول یا اختیارات سے نہیں بلکہ اس سوال سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں آئین کو کہاں کھڑا کرتا ہے۔

آئین اگر فیصلے کے مرکز میں نہ ہو تو طاقت جلد یا بدیر جبر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جسٹس  جواد حسن نے واضح کیا کہ آئین کے تحت دیے گئے اختیارات دراصل امانت ہیں، استحقاق نہیں۔ بیوروکریسی کو جو خود مختاری دی گئی ہے وہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ ذاتی تشخص یا ادارہ جاتی بالادستی کے لیے۔

جسٹس جواد حسن نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی قواعد و ضوابط، رولز آف بزنس اور سروس قوانین اسی لیے مرتب کیے گئے ہیں تاکہ اختیار قانون کی زنجیر میں بند رہے۔لیکچر کا ایک اہم پہلو بنیادی انسانی حقوق پر گفتگو تھا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ریاستی افسران کا روزمرہ واسطہ انہی حقوق سے پڑتا ہے، چاہے وہ آزادیِ اظہار ہو، منصفانہ ٹرائل کا حق ہو یا تعلیم اور وقارِ انسانی کا تحفظ۔

انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک کا ناقابلِ تنسیخ حق دیتا ہے اور یہی وہ شق ہے جس پر پورا انتظامی ڈھانچہ کھڑا ہے۔انہوں نے بیوروکریسی کو خبردار کیا کہ ڈیو پراسس اور فیئر ٹرائل جیسے تصورات صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر انتظامی حکم، نوٹس اور کارروائی میں ان کا عکس ہونا چاہیے۔ ایک چھوٹا سا حکم نامہ بھی اگر قانون کے بغیر ہو تو وہ ریاستی اختیار کو کمزور کر دیتا ہے۔

جسٹس جواد حسن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سرکاری افسر کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر تحریری حکم میں متعلقہ قانون اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ دے۔ آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے فیصلے تمام ریاستی اداروں پر لازم ہوتے ہیں اور ان سے انحراف نہ صرف قانونی بلکہ آئینی خلاف ورزی بھی ہے۔لیکچر کا ایک نمایاں پہلو صوبائی خودمختاری کے تصور پر روشنی ڈالنا تھا۔

جسٹس جواد حسن کے مطابق آئینِ پاکستان کی روح اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں مضمر ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور صوبائی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنا ہی ایک ذمہ دار بیوروکریسی کی پہچان ہے۔آخر میں جسٹس جواد حسن کا پیغام نہایت سادہ مگر گہرا تھا: کہ "اختیار قانون کی کمان میں رہے تو افسر مضبوط ہوتا ہے، اور اگر قانون اختیار کے تابع ہو جائے تو ریاست کمزور پڑ جاتی ہے۔

"یہ لیکچر دراصل بیوروکریسی کے لیے ایک آئینہ تھا—جس میں طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری، حکم نہیں بلکہ خدمت، اور اختیار نہیں بلکہ آئین کی بالادستی جھلکتی تھی۔ ایسے مکالمے اگر تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو شاید ریاستی نظم و نسق میں وہ اعتماد اور شفافیت واپس آ سکے جس کی عوام مدت سے منتظر ہے۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں تاریخ میں پہلی مرتبہ آنے والے زیر تربیت سول سروسز نے خصوصی لیکچر سے بھرپور استفادہ ہوئے اور اسے اپنی زندگی میں سیکھنے کا یادگار لمحہ قرار دیتے رہے ۔