نورِ سحر میں"معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار"بصیرت افروز نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ کتابوں اور مطالعہ سے دوری موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے

Oct 14, 2025 | 11:38:AM
نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف پروگرام نورِ سحر کے تحت ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار"تھا۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ کتابوں اور مطالعہ سے دوری موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

انہوں نے  سیرت النبی ﷺ اور علامہ اقبال کے مطالعے کے حوالے سے کہا کہ انسان جب انہماک سے کتاب پڑھتا ہے تو گویا اُس دور اور ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  علم کے بغیر قوم، روح کے بغیر جسم کے مانند ہے۔کتاب دوستی انسان کو شعور، توازن اور بصیرت عطا کرتی ہے۔

پروفیسر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ کتاب قوموں کو عزت بخشتی ہے اور مطالعہ انسان کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے خوبصورت جملہ کہا کہ آج کا ریڈر کل کا لیڈر بنے گا۔

پروفیسر مدثر حسین سیان نے مطالعہ کی اہمیت پر تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین دن کتاب سے دور رہنے سے انسان کی گفتگو بے ربط اور بے ذوق ہو جاتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں موجود لائبریری میں ارکانِ اسمبلی کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا  کہ مطالعہ انسان کی دماغی صلاحیتوں کو دیرپا بناتا ہے۔

پروفیسر اعجاز احسن گوندل نے تعلیم و ترقی میں کتاب، مکتب اور مکتبہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم کتاب سے جڑے رہے، ترقی کرتے رہے، جب کتاب کو ترک کیا، زوال کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے قرآن کریم کی پہلی وحی "اقْرَأْ" کا حوالہ دے کر علم کی اہمیت اجاگر کی۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ علم ہی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے۔

انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی بنیاد پر عطا کی گئی فضیلت کا ذکر کیا اور امام حسن بن شیبانی، الفارابی اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی علمی خدمات کو سراہا۔