ٹرمپ نے دوسرے ملکوں سے آبنائے ہرمز مین جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایک طریقے سے نہیں تو دوسرے طریقے سے آبنائے ہرمز کو ایران سے آزاد کروا ہی لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے انگلینڈ ، چین، فرانس، جاپان، ساؤتھ کوریا اور دوسرے ملکوں سے توقع ظاہر کی کہ وہ دنیا کے اس کلیدی شپنگ چینل میں اپنے جہاز بھیجیں گے۔
آج شام سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کا نیا بیان آیا ہے۔ اس بیان میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو 'کسی نہ کسی طرح' کھول لیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، "کسی نہ کسی طرح، ہم جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور مفت حاصل کر لیں گے!"
ٹرمپ نے لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ کلیدی شپنگ چینل پر جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ یہ ایران کی طرف سے "اب کوئی خطرہ نہ ہو"۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک اہم شپنگ چینل کو "کھلا اور محفوظ" رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔ ٹرمپ نے دیگر ملکوں کو بھی ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی حرکت سے متاثرہ ممالک قرار دیا اور کہا کہ ان سب ملکوں کو بھی آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنا چاہیئں۔
یہ بھی پڑھیئے: آج بڑا حملہ کیا، ایران کے خرج جزیرے پر تمام فوجی اہداف تباہ کردئیے:صدر ٹرمپ
یہ بھی پڑھیں: خرگ میں 90 فوجی ہدف تباہ کئے، تیل کی تنصیبات کو نہیں چھیڑا، امریکی سینٹ کوم
ٹرمپ نے کہا، چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ بھی آبنائے ہرمز میں مصنوعی رکاوٹ سے متاثر ہیں۔
اس دوران، صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ " امریکہ "ساحل سے باہر جہنم پر بمباری کرے گا اور مسلسل ایرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کو پانی سے باہر مارے گا"۔
ایران ڈرون، بحری بارودی سنگیں اور چھوٹے میزائل اب بھی استعمال کر سکتا ہے، ٹرمپ کا اعتراف
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ نے "ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے" لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے لیے ڈرون، بحری بارودی سرنگیں اور قریبی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال اب بھی "آسان" ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ایرانی کشتیوں اور جہازوں کونشانہ بناکرغرق کرتے رہیں گے، یہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔۔
جنیوا میں ایران کے نمائندے علی بحرانی نے کہا کہ تہران کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے "من گھڑت جھوٹ پر مبنی" ہیں۔