ایران کے منجمد فنڈز پر عالمی کشمکش، ڈیل سے قبل خطے میں مالیاتی سرگرمیاں تیز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )ایران کے منجمد اثاثوں اور ممکنہ معاہدے سے قبل خطے میں مالیاتی اور سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ مختلف آپشنز پر غور کر رہا تھا جن میں منجمد ایرانی فنڈز کو خطے کے ممالک کو ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں، تاہم صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے لیے مالیاتی پیکجز کی پیشکشوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، ان میں متحدہ عرب امارات اور قطر کے حوالے سے مختلف دعوے شامل ہیں، جن کے تحت اربوں ڈالر کے ممکنہ مالی انتظامات پر بات چیت یا قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر کی جانب سے 12 ارب ڈالر کے پیکج کی پیشکش کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جس میں منجمد اثاثوں سے متعلق رقم اور اضافی کریڈٹ لائن شامل ہونے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں:شدید طوفان، دہلی کا نظام درہم برہم، نزلہ پاکستان پر گر گیا!
اسی طرح متحدہ عرب امارات سے متعلق بھی ماضی میں مختلف دعوے سامنے آئے تھے جن میں ایران کے ساتھ مالیاتی انتظامات کا ذکر کیا گیا، تاہم بعد میں یو اے ای حکام نے ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری ممکنہ مذاکرات اور خطے میں بدلتی سفارتی فضا نے مالیاتی معاملات کو ایک بار پھر مرکزی حیثیت دے دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منجمد اثاثوں، پابندیوں میں نرمی اور ممکنہ مالی پیکجز جیسے معاملات آئندہ کسی بھی معاہدے کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، تاہم فی الحال کسی حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔