چاند اور اس کے مدار میں جوہری ری ایکٹرز لگانے کی منصوبہ بندی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند کے مدار پر انسان بردار مشن’’ آرٹیمس 2 ‘‘کو 6 فروری کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔
اس مشن میں 4 خلا باز چاند کے مدار پر جائیں گے اور 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی بار انسانوں کی چاند کے مدار میں واپسی ہوگی،مگر آرٹیمس 2 مشن کے ساتھ ساتھ ناسا کی جانب سے جلد جوہری ری ایکٹر کو چاند پر بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی نے ایک مفاہمتی یادداشت میں اعلان کیا کہ ناسا کا اگلا بڑا پراجیکٹ چاند پر جوہری ری ایکٹر کی تنصیب ہوگا۔
امریکی محکمہ توانائی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ اداروں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کے تحت چاند اور اس کے مدار پر جوہری ری ایکٹرز کی تنصیب ہوسکے،پوسٹ میں بتایا گیا کہ چاند کی سطح پر 2030 تک جوہری ری ایکٹر کی تنصیب کی جائے گی اور امریکا خلائی کھوج اور تجارت میں دنیا کی قیادت کرسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سنگل چارج پر 1058 میل تک بلارکے سفر کرنے والی گاڑی
ناسا کے حال ہی میں تعینات کیے جانے والے نئے منتظم جیراڈ آئزک مین کاکہناہے کہ صدر ٹرمپ کی قومی خلائی پالیسی کے تحت امریکا چاند پر واپس جانے اور وہاں قیام کے لیے انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ مریخ اور اس سے آگے جانے کے لیے درکار سرمایہ کاری کا حصول بھی یقینی بنایا جائے گا، اس کو یقینی بنانے کے لیے جوہری توانائی کی ضرورت ہوگی اور اس مفاہمتی یادداشت سے ان مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی۔
امریکی محکمہ توانائی اور ناسا کی جانب جوہری ری ایکٹرز کو نصب کیا جائے گا جس سے مستقبل کے خلائی مشنز کو مستحکم توانائی مل سکے گی۔