قاتلوں نے حنا جاوید پر قتل سے پہلے کتنا تشدد کیا؟ تصویروں نے حقیقت بیان کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) راولپنڈی میں شوہر کے تشدد کا نشانہ بننے کے دوران قتل ہونے والی خاتون حنا جاوید کے قتل کی تفتیش میں پولیس کی قاتل کو بچانے کی کوشش سامنے آنے کے بعد مقتولہ کی وہ تصاویر سامنے آ گئیں جو ان پر ان کے شوہر کے ہول ناک تشدد کی نشان دہی کرتی ہیں۔ یہ تصویریں مقتولہ حنا جاوید کے قتل کے بعد مردہ جسم کی ہیں۔
منظر عام لائی جانے والی ان تصاویر میں مقتولہ حنا جاوید کےہاتھوں پر اورکہنی پرزخموں کے نشانات دیکھےجاسکتےہیں۔ ان کے چہرے پر بھی بھانک تشدد کے نمایاں نشان ہیں۔ ، جبڑے اور ہونٹوں پربھی زخموں کے نشانات واضح ہیں۔
یاد رہے کہ حنا جاوید کو ان کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر نے اپنے گھر میں تشدد کیا اور تشدد کے بعد اپنے گھریلو ملازم کے ساتھ مل کر 20 اگست کو قتل کیا تھا۔
حنا جاوید قتل کیس کو گھر کے اندر تشدد (ڈومیسٹک وائلنس) کا ایک بلنٹ کیس تصور کرتے ہوئے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری خود اس مقدمہ مین ظلم کرنے والے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ پنجاب کی حکومت نے اس کیس کو ہائی پروفائل کیس قرار دیا لیکن اب یہ سامنے آ رہا ہے کہ پولیس تفتیش میں جان بوجھ کر غلطیاں کر رہی ہے اور مرکزی ملزم کو بچانے کے لئے تفتیش کی ضمنیوں میں قانونی سقم چھوڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس؛اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات کا اظہار کردیا
حنا جاوید کےقتل کا مقدمہ بھائی فہدجاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنزمیں درج ہے۔ اس مقدمے میں حنا جاوید کا قاتل شوہر، اور اس کی معاونت کرنے والا باپ اور ایک گھریلو ملازم نامزد ہیں۔ پولیس نے قاتل شوہر اور اس کے معاون ملازم کو تو گرفتار کر لیا تھا لیکن قتل میں معاونت کرنے والے ایک اہم نامزد ملزم مقتولہ کے سسر کو پولیس نے اب تک گرفتار نہیں کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ملزم آزادی کے ساتھ مقدمہ کی تفتیش پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
حنا جاویدکے وارثوں نے راولپنڈی پولیس کی نمایاں جانبداری اور تفتیش میں ہیر پھیر کرنے کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے فون سے کچھ میسج بھی دیلیٹ کئے گئے ہیں جو قاتلوں کو فائدہ پہنچانے کی ڈیلیبریٹ کوشش ہے۔
یہ شکایت سامنے آ چکی ہے کہ پولیس تفتیش میں مرکزی ملزم شوہر ڈالکٹر فیصل اصغر کو بچانے کی گہری سازش پر عمل کر رہی ہے اور تفتیش کا رخ گھریلو ملازم کی طرف موڑا جارہا ہے، جس نے قتل میں حنا جاوید کے قاتل شوہر کی پیسوں کے عوض معاونت کی تھی۔ مقتول خاتون کے اہلخانہ کا تحفظات پر مبنی خط سامنے آ چکا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس؛ اہلخانہ کا شواہد میں ٹیمپرنگ اور تفتیش پر اظہارعدم اعتماد
حناجاوید کے بھائی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چئیرمین کو خط لکھا اور ان کے گھر والوں کی طرف سے وفاقی وزارت قانون اورپارلیمنٹ کی کاکس کمیٹی کوبھی خط بھیجا گیاہے۔
اس خط میں تفتیش ایف آئی آر کے مطابق نہ کیے جانے کی واضح شکایت کی گئی ہے۔ ا ور کہا گیا ہے کہ تفتیش میں سچ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تفتیش کا رخ اصل مجرم شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر سے ہٹا کر اس کا آلہ کار بننے والے گھریلو ملازم کی جانب موڑا جارہا ہے۔ مقتول خاتون کے بھائی نے شکایت کی کہ پولیس نے کیس کے اہم شواہد کو درست طریقے سے محفوظ نہیں کیا۔
اہلخانہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ قتل کے مرکزی ملزم ڈاکٹر فیصل اصغر اورگھریلوملازم رضوان کے تمام الیکٹرانک آلات کا فوری فارنزک کرایا جائے۔
اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش آزاد تفتیشی ٹیم کے سپرد کی جائے۔
یہ بھی پڑھیئے: حنا جاوید کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر عبرت کی مثال بنایا جائے، آصفہ بھٹو
واضح رہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ حنا جاوید کے گھریلو ملازم نے گلا گھونٹنے اور تشدد کرکے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ مقتولہ کے گھر والے اصرار کر رہے ہیں کہ یہ ایک بار کے تشدد کا واقعہ نہیں تھا، حنا کو ان کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کے مسلسل ، بار بار تشدد کا سامنا رہا۔ آخری مرتبہ اس درندے نے جان لیوا تشدد کیا۔ اور ملازم رضوان نے اس تشدد کے بعد قتل کے جرم میں اس کی معاونت کی۔
نوٹ: حنا جاوید کے جسم پر تشدد کے بہت زیادہ نشانات ہونے کی وجہ سے تصاویر یہاں شائع نہیں جا رہیں