آئی پی ایچ کا ڈاکٹرز ، کارکنوں پر تشدد، تیزاب گردی کیخلاف آگاہی کیلئے سیمینار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) لاہور میں ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کے دیگر کارکنوں پر تشدد، دھمکیوں اور تیزاب گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں حکومت، طبی ماہرین اور قانونی مشیروں نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی اور ادارے کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے واضح کیا کہ طبی عملے پر کسی بھی قسم کا تشدد یا بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ مقررین نے کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر اور دیگر لیڈی ڈاکٹروں پر تیزاب پھینکنے اور تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم نہ صرف انسانی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ صحت کے پورے نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ رشدہ لودھی نے بتایا کہ پنجاب میں تیزاب کی خرید و فروخت اور اس کے استعمال کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025 کے تحت سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت تیزاب کا کاروبار کرنے یا اسے خریدنے کے لیے باقاعدہ سرکاری لائسنس لازمی ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
رشدہ لودھی نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کا مقصد تیزاب کے غلط استعمال کو روکنا اور ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو بالخصوص خواتین اور طبی عملے کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کو باہمی رابطے سے کام کرنا ہوگا تاکہ ہسپتالوں میں ایک محفوظ اور پرسکون ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
سیمینار میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہسپتالوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی، عملے پر حملہ یا دھمکی دینے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہوگی، اور کسی بھی ہنگامہ آرائی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دینے کا مؤثر نظام بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ طبی عملے کو نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان برن سوسائٹی کے ماہرین نے اس موقع پر جلن اور تیزاب گرنے کی صورت میں فوری ابتدائی طبی امداد کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق متاثرہ حصے پر فوراً عام نل کا پانی کم از کم 20 منٹ تک ڈالنا چاہیے، جبکہ ٹوتھ پیسٹ، دودھ، لیموں، تیل، گھی، مکھن، برف یا کسی بھی گھریلو ٹوٹکے سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ ماہرین نے کہا کہ ابتدائی امداد کے بعد مریض کو فوری طور پر قریبی برنز یونٹ یا مستند ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔
اجلاس میں پاکستان برن سوسائٹی کے صدر پروفیسر یاور، ڈاکٹر یونس، ڈاکٹر سنیعہ احمد،میڈیکل ویمن ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر وجیہہ رضوان، پروفیسر ملازم بخاری، ڈاکٹر طارق میاں، قانونی مشیر کاشف بندیشہ، ڈاکٹر عنبرین زہرا، ڈاکٹر ارسلان اور ڈاکٹر احمد عبدالمونیم سمیت دیگر ماہرین اور میڈیا نمائندے بھی موجود تھے۔
مقررین نے کہا کہ محفوظ ہسپتال صرف مریضوں کے بہتر علاج ہی کی ضمانت نہیں بلکہ یہ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان بھی ہے۔ تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خواتین کی بحالی کے مراکز قائم کرکے انہیں اس شدید ذہنی و جسمانی صدمے سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟