آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے اجتماعات 4 جولائی سے 8جولائی تک جاری رہیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب دیسک) ایران کے سابق رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی کو تہران میں شروع ہوں گی اور 9 جولائی کو شمال مشرقی شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ مکمل ہوں گی۔
اس بات کا اعلان ہفتے کو ایران کے سرکاری میڈیا پر کیا گیا۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تین دہائیوں سے زائد عرصے تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے شہید ہونے کے بعد مجلس خبرگان نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے جانشین کے طور پر منتخب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدے پر کل دستخط ہوں گے , آبنائے ہرمز سب کے لیے کھل جائے گی،صدر ٹرمپ کااعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے جنازہ کا آغاز 4 جولائی کو تہران سے ہو گا اور تہران کے جنوب میں واقع مذہبی اہمیت کے حامل شہر قم میں ہونے والی رسومات بھی شامل ہوں گی۔
ایرانی میڈیا نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کرنے میں تاخیر ہوئی۔
اپنی طویل قیادت کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کو ایک مستحکم قوت میں تبدیل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکہ اور ایران کو ٹیبل پر بٹھایا، اسرائیل کی کوشش تھی تنازعہ جاری رہے: خواجہ آصف
انہوں نے لبنان میں حزب اللہ جیسی اتحادی تنظیموں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا، جبکہ ملک کے اندر احتجاج اور بے چینی کی مختلف تحریکوں کو سختی سے دبا دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای 8 مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے تھے اور وہ اس وقت سے تاحال عوامی سطح پر کہیں نظر نہیں آئے۔
ایران کے رہبرِ اعلٰی کا عہدہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے سپریم لیڈ آیت اللہ خامنہ ای کی موت سے خالی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل دستخط کل تک ہوں گے؛ صدر ٹرمپ نے پرائم منسٹر شہباز کی پوسٹ کی تصدیق کر دی