اسلام آباد ہائیکورٹ،کیس کی سماعت کے دوران 27ویں ترمیم  پر جسٹس محسن اختر کیانی کے دلچسپ ریمارکس

Nov 12, 2025 | 19:11:PM
اسلام آباد ہائیکورٹ،کیس کی سماعت کے دوران 27ویں ترمیم  پر جسٹس محسن اختر کیانی کے دلچسپ ریمارکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’27ویں ترمیم ہو رہی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل بھی اپنے اختیارات میں اضافہ کروا لیتی،تجاویز بھجوا  دیتی تو اختیارات بڑھ جاتے“۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں انجنیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے کونسل کی رائے معطل کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ سماعت کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے نامکمل جواب جمع کرایا گیا، جس پر عدالت نے مکمل جواب جمع کرانے اور دائرہ اختیار سے متعلق وضاحت دینے کی ہدایت کی۔سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “27ویں ترمیم ہو رہی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل بھی اپنے اختیارات میں اضافہ کروا لیتی، تجاویز بھیجوا دیتی تو اختیارات بڑھ جاتے۔”

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ’’اس کیس کا فیصلہ اسی ماہ ہوسکتا ہے، ترمیم کے بعد شاید یہ اختیار بھی نہ رہے۔ پارلیمان خودمختار ہے اور اس کے پاس اپنی طاقت ہے‘‘۔جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل ایک ایڈوائزری باڈی ہے؟ اور کیا وہ مقننہ، صدر یا صوبائی گورنر کے علاوہ کسی کو رائے دے سکتی ہے؟۔اسلامی نظریاتی کونسل کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کونسل کے چیئرمین کی تعیناتی تاحال نہیں ہوئی، اسلئے جواب دینے میں وقت درکار ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نئی تعیناتی کی سفارش بھیج دی گئی ہے؟، جس پر حکام نے بتایا کہ سفارش بھیج دی گئی ہے اور جلد تعیناتی متوقع ہے۔

عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو  کو معافی دیدیں،ٹرمپ کی اسرائیلی  صدر سے منتیں