فاتحِ بنیانُ مرصوص ۔۔ سپہ سالار پاکستان جنرل سید عاصم منیر کوسلام
تحریر : سفیر رضا چغتائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
تاریخ کے صفحات انہی کو محفوظ رکھتے ہیں جو اپنی قوم، نظریے اور ایمان کی حفاظت کیلئے تن من دھن قربان کر دیتے ہیں،جب وقت آزمائش کا ہو، دشمن گھات میں ہو اور ملک و ملت کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر حملے کا خطرہ منڈلا رہا ہو، تب وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جنہیں ایسے سپہ سالار میسر آتے ہیں جو حضرت حیدرِ کرارؓ کی بصیرت، جناب خالد بن ولیدؓ کی جرات، طارق بن زیادؒ کی حکمت، صلاح الدین ایوبیؒ کا یقین، سلطان محمود غزنویؒ کا ولولہ، اور ٹیپو سلطانؒ کا حریت کا جذبہ اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔پاکستان کی حالیہ تاریخ میں آپریشن بنیانِ مرصوص ایک ایسا ہی لمحہ فخر بن کر ابھرا ہے۔
جہاں افواجِ پاکستان نے صرف ایک عسکری کارنامہ ہی انجام نہیں دیا بلکہ ایک جرات مند،غیور،باہمت،عزوم واستقامت کا پیکر نظریاتی و روحانی قیادت کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس ”بنیان مرصوص“ کی قیادت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کی، جو نہ صرف ایک تجربہ کار عسکری سپہ سالارہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کرنے والے صاحبِ ایمان شخصیت بھی ہیں۔ یہی وہ نسبت ہے جس نے اس آپریشن کو محض ایک جنگی معرکہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک روحانی جہاد میں بدل دیا۔جنرل سید عاصم منیر نے ''بنیانِ مرصوص'' کا نام قرآن کریم کی سورۃ الصف کی آیت ۴ سے اخذ کیا، جس میں فرمایا گیا‘”إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ“۔یعنی ”بیشک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف بستہ ہو کر، ایسے لڑتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔“ یہی تصور فوجی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ ٹھہرا، اور جنرل سید عاصم منیر نے نہ صرف اس آیت کو آپریشن کا عنوان بنایا بلکہ اُس کی روح کو عملی شکل بھی دی۔ آپریشن کا وقت نمازِ فجر کے فوراً بعد رکھا گیا، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے‘کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر غزوات کا آغاز صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے۔ دشمن کو ہر پہلو سے تیار دیکھا گیا، مگر دشمن کو یہ اندازہ نہ تھا کہ پاک فوج کی قیادت میں ایک ایسا سالار آ چکا ہے جو قرآن کو رہنما اور سنت رسول ﷺ کو حکمت ِعمل سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور پاکستان ایک عظیم کامیابی کی طرف بڑھا جس نے نہ صرف خطے کا توازن محفوظ کیا بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں بھی ڈال دیا۔
مسلح افواجِ پاکستان نے جس منظم انداز، پیشہ ورانہ مہارت، اور ایمانی جوش و جذبہ سے دشمن کے وار کو ہرمحاذ پر ناکام بنایا، وہ اُن عظیم مسلم سپہ سالاروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے کبھی میدان جنگ میں تعداد نہیں، بلکہ نیت، یقین اور قیادت پر بھروسہ کیا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کی تلوار حیدری جب صفوں میں گونجتی تھی، دشمن کے دل لرز جاتے تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے مقابلے پر آنے والی فوجیں اُن کے لقب ''سیف اللہ'' سے خوف کھاتی تھیں۔ طارق بن زیاد جب کشتیوں کو جلا کر اندلس کی سرزمین پر اترے تو اُن کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں: ”سمندر پیچھے ہے، دشمن سامنے!“یہی جرات، یہی یقین آج افواجِ پاکستان کے اندر بھی دکھائی دیاہے۔جنرل سید عاصم منیر نے اپنے عزم، استقامت اور خلوص سے اس ورثے کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ نئی نسل کے سامنے ایک عظیم مثال بھی قائم کی۔ ان کی قیادت میں دشمن کی تمام چالیں الٹ گئیں، اور ایک بار پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی فوج صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک نظریاتی فوج ہے جو ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہے۔ یہ آپریشن جہاں عسکری لحاظ سے ایک ''Strategic Masterstroke'' ثابت ہوا، وہیں روحانی، نفسیاتی اور اخلاقی سطح پر بھی دشمن پر کاری ضرب تھا۔ عالمی تجزیہ نگاروں، دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ انداز اور حکمت سے دشمن کے عزائم خاک میں ملائے، وہ دنیا کی کسی بھی ماڈرن آرمی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس شاندار کامیابی کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں عوامی خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں ”جشن ِ فتح ِ مبین“منایاجارہاہے، مٹھائیاں تقسیم ہوئیں،جنرل سید عاصم نیر کی قیادت میں نماز فجر کے بعد ’الفتح میزائل“ کی پرواز کے ساتھ جو نعرہ تکبیراللہ اکبربلندہوا۔ اس نعرہ تکبیراللہ اکبر کے ساتھ ساتھ‘ نعرہ رسالت یارسول اللہ’نعرہ حیدی یاعلی‘ کی صدائیں آج ملک کے کونے کونے میں گونج رہی ہیں اور پوری قوم یک زبان ہو کر کہ رہی ہے”پاکستان ہمیشہ زندہ باد اورپاک فوج ہمیشہ زندہ باد!“کشمیری عوام کے دل بھی جھوم اٹھے ہیں، جنہوں نے اس آپریشن کو اپنی امید کا چراغ سمجھا۔ ان کے لبوں پر دعا ہے اور دل میں یقین ہے کہ جس فوج کے سالار نے قرآن کو اپنی رہنمائی بنایا ہو، وہ اُن کے لیے بھی ایک دن آزادی کی نوید لے کر ضرور آئے گا۔
ہم سجھتے ہیں کہ اس کامیابی نے جہاں عسکری لحاظ سے دشمن کو پیچھے دھکیلا، وہیں سفارتی اور نظریاتی میدان میں بھی پاکستان کو ایک نئی طاقت بخشی ہے۔ اب اس فتح ِ مبین کو صرف ایک یادگار نہیں بنانا بلکہ ایک مسلسل سفر کا آغاز سمجھنا ہوگا۔ ہماری قیادت کو کشمیری عوام کی قربانیوں کا مان رکھتے ہوئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ فتح صرف سرحدوں کی نہ ہو، بلکہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ضمیر میں بھی اپنی بازگشت پیدا کرے۔آپریشن بنیانِ مرصوص آج پاکستان کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس میں قربانی، ایمان، حب الوطنی اور اعلیٰ قیادت کا جو امتزاج نظر آتا ہے، وہ کسی بھی عظیم امت کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ سلام ہے اُن شہیدوں کو جنہوں نے اس بنیان کو اپنے خون سے مضبوط کیا، اور سلام ہے اُن غازیوں کو جنہوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتایا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔سلام ہے اُس سالار جنرل سید عاصم منیرکوجنہوں نے قرآن کو سپہ سالاری کی رہنمائی بنایا، سنتِ نبوی ﷺ کو عملی حکمت میں ڈھالا، اور اپنی فوج کو صرف جنگی میدان میں نہیں، روحانی مقام پر بھی سرخرو کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماں کی ہار، وطن کی جیت،شہداء کو سلام