سوئٹزرلینڈ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سوئٹزرلینڈ نےتہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے،سفارت خانہ ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور اس کے نتیجے میں یرغمالیوں کے بحران کے بعد امریکا نے 1980 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ سوئٹزرلینڈ کئی دہائیوں سے امریکی مفادات کی حفاظت کرنے والی طاقت کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک پر ایران کے حملوں کی وجہ سے تہران میں سوئس سفارت خانے کے عملے کی حفاظت کی مزید ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سوئس سفیر اور باقی تمام سفارتی عملے نے بدھ کو زمینی راستے سے ایران چھوڑ دیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ "سوئٹزرلینڈ مواصلاتی چینلز کے لیے دستیاب رہے گا جسے فریقین مفید سمجھتے ہیں، حفاظتی طاقت کا مینڈیٹ جس کے تحت سوئٹزرلینڈ ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، جغرافیائی محل وقوع سے آزادانہ طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کو سفارتخانے کی عارضی بندش اور سوئس عملے کی روانگی سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
برن میں امریکی سفارت خانے نے جواب میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ سوئس حکومت کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور یہ کہ سوئٹزرلینڈ کا امریکی مفادات کے تحفظ اور ہمارے شہریوں کی حمایت کے لیے اہم کام ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے 3 مطالبات پیش کر دیئے