اقوام متحدہ کے تین چوتھائی رکن ممالک فلسطینی ریاست کے حامی ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )اقوام متحدہ کے تین چوتھائی رکن ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں یا جلد تسلیم کرنے والے ہیں۔ آسٹریلیا نے بھی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تسلیم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ جو سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کے حملے بعد غزہ میں شروع ہوئی، نے دنیا بھر میں فلسطینیوں کو ان کی علیحدہ ریاست دینے کے مطالبے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے, یہ اقدام اس دیرینہ موقف سے انحراف ہے کہ فلسطینی صرف اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی امن عمل کے نتیجے میں ریاست حاصل کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے کم از کم 145 ممالک اب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں یا جلد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں فرانس، کینیڈا اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔
15 نومبر 1988 کو پہلی فلسطینی انتقاضہ کے دوران فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے یکطرفہ طور پر یروشلم کو دارالحکومت قرار دے کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا, انہوں نے یہ اعلان الجزائر میں جلاوطن فلسطینی نیشنل کونسل کے اجلاس میں کیا جس میں دو ریاستی حل کو پیش کیا گیا، یعنی اسرائیل اور فلسطین کی آزاد ریاستیں ایک ساتھ موجود ہوں۔
چند منٹوں کے اندر الجزائر پہلا ملک بنا جس نے رسمی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا,اور پھر ہفتے کے اندر اندر درجنوں دیگر ممالک جن میں عرب دنیا، انڈیا، ترکیہ، بیشتر افریقی اور کچھ وسطی و مشرقی یورپی ممالک نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا۔
تسلیم کرنے کی دوسری لہر 2010 کے آخر اور 2011 کے آغاز میں اس وقت آئی جب مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں بحران پیدا ہوا, اس وقت جنوبی امریکی ممالک جیسے ارجنٹینا، برازیل اور چلی نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔ یہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی ختم کرنے کے ردعمل میں تھا۔