ایف آئی اے سی پورٹ کراچی نے بحری دستاویزات کی جعلسازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی

May 11, 2026 | 19:21:PM
ایف آئی اے سی پورٹ کراچی نے بحری دستاویزات کی جعلسازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی
کیپشن: ایف آئی اے سی پورٹ کراچی نے بحری دستاویزات کی جعلسازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(خورشید رحمانی) وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے )سی پورٹ کراچی نے بحری دستاویزات کی جعل سازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی،کارروائی کے دوران 1,352 سے زائد کنٹینرز سے لدے بحری جہاز "سی وی البرٹ پی" پر 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

جعلی سی مین بکس پر سفر کرنے والے عملے کے 4 ارکان کو "ناقابلِ امیگریشن" قرار دے دیا گیا،حکام کے مطابق یہ بین الاقوامی سطح پر جعلی بحری دستاویزات کے استعمال کے خلاف ایک بڑی کارروائی ہے،ایف آئی اے امیگریشن و انسدادِ انسانی اسمگلنگ ونگ نے کارروائی کی۔

چیک پوسٹ سی پورٹ کراچی نے مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والے کنٹینر جہاز "سی وی البرٹ پی" پر سوار جعلی سی مین بکس کے حامل عملے کے 4 ارکان کی نشاندہی کر کے جہاز پر 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا،مذکورہ جہاز عمان کی بندرگاہ صلالہ سے 1,352 کنٹینرز پر مشتمل بھاری درآمدی و ٹرانزٹ کارگو لے کر کراچی پہنچا تھا،جہاز برتھ SAPT-03، کیماڑی سی پورٹ پر لنگر انداز ہوا تھا۔

جہاز میں 529 کنٹینرز کے تخلیے اور 204 کنٹینرز کی لوڈنگ کے بعد پورٹ محمد بن قاسم روانہ ہونا تھا۔

26 رکنی عملے کی امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایف آئی اے ٹیم نے 4 ٹیکنیشنز، سبہانو ریچی جوریڈیکو، سابطن جیورج ایان گومز (فلپائنی)، حسین شہیر اور علی فرقان (پاکستانی) کو بیلیز اور بہاماس کی جانب سے جاری کردہ جعلی سی مین بکس کے ساتھ پکڑ لیا۔

مذکورہ افراد میں سے کسی کے پاس بھی نہ تو فلیگ اسٹیٹ اور نہ ہی قومی سی مین بک موجود تھی، جبکہ وہ بین الاقوامی بحری معاہدوں کے تحت لازمی معاون دستاویزات بھی پیش نہ کر سکے۔

عملے سے پوچھ گچھ کے دوران جہاز کے کپتان اور چاروں عملے کے ارکان نے اعتراف کیا کہ مذکورہ جعلی دستاویزات انہیں دبئی میں مقیم ایک شپنگ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں، جس سے جعلی بحری دستاویزات کے اجراء اور ترسیل میں ملوث ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی۔

فی کس 5 لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے جرمانہ جہاز کے مقامی ہینڈلنگ ایجنٹ، میسرز جی اے سی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ، پر فارنرز آرڈر 1951ء کی شق 6 کی ذیلی شق (3) کے تحت عائد کیا گیا۔

جہاز کے کپتان اور متعلقہ عملے کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946ء کی دفعات 3(2)، 13 اور 14 کے تحت قانونی کارروائی کے لیے شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ کارروائی مئی 2026ء کے دوران ایف آئی اے سی پورٹ کراچی کی اپنی نوعیت کی تیسری بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے جعلی بحری دستاویزات پر سفر کرنے والے 4 غیر ملکی و مقامی عملے کے ارکان کی امیگریشن کلیئرنس کامیابی سے روکی گئی۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی ایف آئی اے کے پختہ عزم اور پاکستانی بندرگاہوں پر امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے سلسلے میں زیرو ٹالرینس پالیسی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  عمران خان سےملاقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کی فہرست جیل انتظامیہ کوارسال،سہیل آفریدی کا نام شامل نہیں