ٹرمپ کی دھمکی کےبعد پاسداران کی مزید دھمکیوں کے ساتھ ہرمز میں جنگی کارروائیاں، تین جہازوں کا نقصان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)آبنائے ہرمز میں تین مزید تجارتی بحری جہاز وں پر پروجیکٹائل سے حملے ہوئے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے کم از کم ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سمندر میں تجارتی بحری جہاز فائر لائن میں موجود دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک ویسل کے عملہ کے تین ارکان لاپتہ ہیں۔
آبنائے ہرمز میں مزید تین جہاز وں کے نامعلوم پروجیکٹائل کے حملوں کی زد میں آنے کے متعلق میری ٹائم سیکیورٹی اور رسک فرموں نے بدھ کے روز بتایا۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ تھائی لینڈ کے جھنڈے والے بلک کیریئر میوری ناری کو عمان کے قریب نقصان پہنچا۔ اس جہاز سے زیادہ تر عملے کو نکال لیا گیا، عملہ کے تین افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔


جاپان کے ایک کنٹینر جہاز اور یونانی ملکیت والے ایک بلک کیرئیر کو سمندر میں موجود پروجیکٹائل ٹکرانے سے معمولی نقصان پہنچا۔
آج کے تین جہازوں کے نقصان کے ساتھ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد سے خطے میں حملوں کی زد میں آ کر نقصان اٹھانے والے بحری جہازوں کی تعداد کم از کم 14 ہوگئی ہے۔
تھائی پرچم والے Mayuree Naree ڈرائی بلک جہاز بدھ کے روز آبنائے سے گزرتے ہوئے "نامعلوم اصل کے دو پروجیکٹائل" سے ٹکرا گیا تھا، جس سے آگ لگ گئی اور انجن روم کو نقصان پہنچا، جہاز کے تھائی آپریٹر پریشئس شپنگ نے ایک بیان میں کہا کہ عملے کے تین ارکان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انجن روم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
"کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ ان تین لاپتہ عملے کے ارکان کو بچانے کے لیے کام کر رہی ہے،" کمپنی نے مزید کہا کہ بقیہ 20 عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور انہیں عمان میں ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے۔
تھائی لینڈ کی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ تصاویر میں جہاز کے پچھلے حصے سے دھواں نکلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی کارروائی، ایرانی نیوز ایجنسی کی تصدیق
ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ اس جہاز پر "ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی"۔ آبنائے ہرمز مین پاسداران کی کسی کارروائی کی ایران سے یہ پہلی رسمی تصدیق آئی ہے۔ پاسداران نے پہلے کئی میزائل یا ڈرون فائر کیے ہیں لیکن ان کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی تھی۔
جاپانی ویسل ون میجسٹی کی قسمت قدرے اچھی نکلی
تھائی جہاز کے نشانہ بن کر بری طرح نقصان اٹھانے سے پہلے بدھ کے روزہی جاپان کے جھنڈے والے کنٹینر جہاز ONE Majesty کو متحدہ عرب امارات میں راس الخیمہ کے شمال مغرب میں 25 ناٹیکل میل (46 کلومیٹر) کے فاصلے پر نامعلوم پراجیکٹائل سے معمولی نقصان پہنچا۔ دو میری ٹائم سیکیورٹی فرموں نے اس حمےلکے بارے میں بتایا۔
اس ویسل کے جاپانی مالک مٹسوئی O.S.K. لائنز (9104.T) نے، اور اوشین نیٹ ورک ایکسپریس (ONE) کے ایک ترجمان، جو اس کے چارٹرر ہیں، نے کہا کہ ویسل کے خلیج میں لنگر انداز ہونے کے دوران ایک پروجیکٹائل آ کر ویسل سے ٹکرایا تھا اور اس تصادم سے جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔ سوراخ کے معائنے سے واٹر لائن کے اوپر معمولی نقصان کا انکشاف ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ویسل کا تمام عملہ محفوظ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جہاز مکمل طور پر چل رہا ہے اور سمندر میں آگے سفر کرنے کے قابل ہے۔ مالک نے کہا کہ واقعہ کی وجہ واضح نہیں ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل، امریکہ اور ایران کے حملوں میں ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیل
میری ٹائم سیکورٹی فرموں نے بتایا کہ ایک تیسرا بحری جہاز، سٹار گیوینتھ ایک بلک کیریئر، بھی دبئی کے شمال مغرب میں تقریباً 50 میل دور نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرا گیا۔
میری ٹائم رسک منیجمنٹ کمپنی وینگارڈ نے کہا کہ پراجیکٹائل نے مارشل آئی لینڈ کے فلیگ کیرئیر سٹار گیوینتھ کے ہل کو نقصان پہنچایا تھا، اس نے مزید کہا کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے۔ سٹار بلک کیریئرز کے مالک نے بتایا کہ جہاز لنگر انداز ہونے کے دوران ہولڈ ایریا میں ٹکرایا۔ عملے کو کوئی زخم نہیں آئے، تمام ارکان مھفوظ رہے۔
ٹرمپ کا بحری حفاظت کا وعدہ، بحریہ کا محافظ فراہم کرنےسے انکار
اس معاملے سے واقف ذرائع نے انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے سفر کرنے والے بہت سے تجارتی جہازوں کو چلانے والی جہاز راں کمپنیوں کی تقریباً روزانہ ملنے والی بہت سی درخواستوں کو مسترد کیا ہے جن مین ان جہازوں کو فوجی اسکارٹ مہیا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔
امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کا خطرہ ابھی بہت زیادہ ہے۔
اس سے قطع نظر امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب بھی ضرورت پڑی امریکہ بحری محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہرمزگان سے ملحق تنگ سمندری پٹی ہرمز میں بحری ٹرانسپورٹ رکنے کا پس منظر
ہرمز ایک انتہائی تنگ آبنائے ہے جہاں سے خلیج سے آنے والے تمام جہازوں کو گزرنا پڑتا ہے۔ کئی روز سے ایران کے حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں ٹرانسپورٹ تقریباً رک گئی ہے۔
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے، تبھی سے دنیا کی تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی برآمدات کا آبنائے ہرمز سے گزر کر دنیا کے مختلف علاقوں کو جانے کا سلسلہ تقریباً رکا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کو جوہری ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے سکتے:اٹلی
آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل سے لدے جہاز گزرنا معمول تھا، اب اس معمول کے رک جانے سے انٹرنیشنل آئل مارکیٹ مین تیل کی سپلائی کے متعلق بے یقینی پیدا ہونے سے ابتری آ گئی ہے اور قیمتیں بہت بلندی پر پہنچ گئیں جہاں وہ پوسٹ کرونا دنوں یعنی 2022 کے بعد سے نہیں دیکھی گئی تھیں۔
ٹرمپ کی دھمکی اور پاسداران کی مزید دھمکیوں کے ساتھ ہرمز میں جنگی کارروائیاں
ایران کے پاسداران انقلاب تقریباً روزانہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان سے جڑی اس آبنائے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسداران نے آبنائے میں بہت سی چھوٹی کشتیاں چھوڑ رکھی ہین جو پانی میں بارودی سرنگیں ڈال رہی ہیں۔ کئی چھوٹی کشتیاں جو بارود سے لدی ہوئی تھیں، تیل بردار جہازوں سے ٹکرا کر ان جہازوں کا نقصان کر چکی ہیں۔ امریکی جہاز آبنائے مین راستہ کھولنے کی کوشش کر ہرے ہیں۔ انہوں نے بارودی سنگنیں پانی میں ڈالنے والی کئی کشتیاں تباہ کیں لیکن آبنائے مین سفر بدستور ناممکن بنا ہوا ہے۔
کل فلوریڈا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے میں رکاوٹیں کھڑی کیں تو امریکہ اس پر 20 گنا برے حملے کرے گا۔ اس دھمکی کے جواب میں پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر کہا کہ وہ آدھا لٹر تیل بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: 65 ہزار 29 میٹرک ٹن خام تیل لے کربحری جہاز کراچی پہنچ گیا