تیزاب مجھ پر پھینکا گیا،   شوہر پر تیزاب پھینکنے والی عورت کا عدالت میں الٹا بیان

Jun 11, 2026 | 21:21:PM
  تیزاب مجھ پر پھینکا گیا،   شوہر پر تیزاب پھینکنے والی عورت کا عدالت میں الٹا بیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشاد قریشی)  گوجر خان میں  شوہر پر تیزاب پھینکنے  والی عورت کو آج راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

ملزمہ کو پولیس نے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کر کے اس کے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے خاتون کا سات یوم کا ریمانڈ دیدیا۔

ملزمہ کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کی مؤکلہ نے تیزاب نہیں پھینکا بلکہ موکلہ کے شوہر نے اس پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی تھی اور یہ کہ یہ واقعہ گھر کے اندر ہوا۔ 

 ملزمہ کا بیان یہ تھا کہ میری مزاحمت پر تیزاب کی بوتل گر کے ٹوٹ گئی جس سے کچھ تیزاب  خاوند پر گرا ، میں بھی متاثر ہوئی۔

ملزمہ نے تسلیم کیا کہ کامران تنویر سے آٹھ ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔  شادی پر دیئے جانے والے زیورات اور تحائف پر جھگڑا تھا ۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے پولیس کو ہدایت کی کہ تیزاب سے زخمی نوجوان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے اور ملزمہ کا مکمل بیان ریکارڈ کیا جائے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے  پولیس کو درست تفتیش کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

گوجر خان میں کیا ہوا تھا

  گوجر خان  کے نواحی علاقہ گلیانہ موڑ میں گزشتہ روز عائشہ بشارت نامی  مقامی یونین کونسل کے دفتر کے باہر اپنے اب تک شوہر کامران تنویر پر تیزاب کی بوتل الٹ دی تھی۔ دونوں یونین کونسل کے دفتر میں طلاق کے مقدمہ کی سماعت کے لئے گئے تھے۔ بظاہر طلاق کے تنازعہ پر  عورت نے اپنے شوہر کامران تنویر پر تیزاب پھینک دیا۔
اس واقعے کیمیڈیا مین فوری طور پر سامنے آنے والی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
یہ واقعہ گوجر خان کے علاقے 'گلیانہ موڑ' کے قریب واقع یونین کونسل مطوعہ کے دفتر کے باہر پیش آیا۔ متاثرہ شخص  پیشے سے سکول ٹیچر ہے، وہ اپنی بیوی کے ساتھ طلاق سے متعلقہ قانونی کارروائی اور معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے یونین کونسل آیا تھا۔
 خاتون پہلے سے ہی وہاں برقع یا ہڈ پہن کر موجود تھی۔ جیسے ہی شوہر  یونین کونسل کے دفتر میں کارروائی مکمل کر کے یونین کونسل کے دفتر سے باہر نکلا، خاتون نے اچانک ڈیڑھ لیٹر کی بوتل سے اس پر تیزاب انڈیلنا شروع کر دیا۔ اس نے کئی کوششین کیں۔ مرد کے چہرے، آنکھوں اور کمر پر تیزاب  گرنے سے شدید زخم آئے۔
تیزاب گرنے کے نتیجے میں کامران تنویر کا چہرہ اور جسم کا کچھ حصہ جھلس گیا۔ انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال گوجر خان منتقل کیا گیا۔

اس سنگین جرم کی خبریں فوراً ہی میڈیا میں ڈسکس ہونے لگین تو   گوجر خان پولیس نے موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ عائشہ بشارت کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد تیزاب سے جل چکے  شوہر کی درخواست پر ملزمہ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-B (تیزاب گردی کی دفعہ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ۔

گوجر خان کا واقعہ کوئٹہ کے واقعہ کی بازگشت

گوجر خان میں مرد پر تیزاب پھینکے جانے سے چند روز پہلے کوئٹہ مین سرکاری ہسپتال کی ڈاکٹر نوجوان خاتون پر ہسپتال کے عملہ کے ایک شخص نے تیزاب  پھینک دیا تھا۔ اس شخص کو پولیس نے کچھ ہی گھنٹے بعد انکاؤنٹر میں مار دیا تھا۔ اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد گوجر خان میں طلاق لینے کے خواہشمند مرد پر تیزاب پھینکنے کا سنگین واقعہ ہو گیا۔