پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ روکنے پر اتفاق

Dec 11, 2025 | 14:19:PM
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ روکنے پر اتفاق
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی اور یورپی یونین کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن میگنس برنر کے درمیان اہم ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات اور باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

 ملاقات کو دونوں فریقین نے مستقبل کی مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

ملاقات کے دوران یورپی یونین کمشنر میگنس برنر نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان سے یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں (ڈنکی کے ذریعے) 47 فیصد کمی آئی ہے، جو پاکستان کی مؤثر حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے اس کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے اقدامات کو مثالی قرار دیا۔

کمشنر برنر نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا  تاکہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کی کوششوں کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت ہو سکے۔

محسن نقوی نے ملاقات میں بتایا کہ رواں سال پاکستان میں 1,770 انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس گرفتار کیے گئے ہیں، جو حکومت کے زیرو ٹالرنس مؤقف کا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر فیض حمید کیخلاف فیصلہ حق کی فتح ہے: عطا تارڑ

انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ اور انسدادِ منشیات کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سمگلرز، ڈرگ مافیا اور دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ دنیا بھر کے لیے سنگین چیلنج ہے، اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

ملاقات میں اس امر پر مکمل اتفاق ہوا کہ پاکستان اور یورپی یونین غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کریں گے، دونوں فریقین نے معلومات کے تبادلے سمیت ہر ممکن تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

آخر میں دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور یورپی یونین مستقبل میں بھی مل کر ان عالمی جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گے۔