بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، ماہانہ رقوم ڈیجیٹل طریقے سے جاری ہوں گی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ رقوم اب ڈیجیٹل طریقے سے جاری ہوں گی۔
پاکستان کی ایک کروڑسے زائد غریب خواتین پہلی بار باقاعدہ بینک اکاؤنٹس کی حامل بن گئی ہیں اوروہ جلد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ وظائف ڈیجیٹل طور پرحاصل کرسکیں گی،اس سے قبل ان مستحق خواتین کے پاس بینک اکاؤنٹس نہیں تھے اور وہ ’’لمیٹڈ لائبلیٹی‘‘ اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم وصول کرتی تھیں۔
بی آئی ایس پی کے سیکریٹری عامر علی احمد کے مطابق 10 ملین موبائل والٹ اکاؤنٹس کھولنے کاعمل حکومتی اجلاسوں کے بعد ممکن ہوا۔
اعدادو شمار کے مطابق 31 لاکھ اکاؤنٹس ایچ بی ایل، 30 لاکھ بینک الفلاح، 20 لاکھ بینک آف پنجاب، 12 لاکھ جازکیش جبکہ تقریباً 7 لاکھ ایزی پیسہ نے کھولے ہیں،اکاؤنٹس خواتین کے شناختی کارڈزسے منسلک ہوں گے اورموبائل فون کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے،حکومت ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے مفت سم کارڈبھی فراہم کر رہی ہے۔
رقوم صرف بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے ہی نکل سکیں گی اور ڈیبٹ کارڈز جاری نہیں کیے جائیں گے تاکہ کسی ایجنٹ یاگھرکے مردوں کے ذریعے استحصال کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
اب تک 17 لاکھ سم کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں اور حکومت آئندہ ماہ کے آخر تک 30 فیصد جبکہ مارچ تک 80 فیصد سم کارڈز فراہم کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کا ہدف ہے کہ اگلے سال جون تک بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں 100 فیصد ڈیجیٹل کر دی جائیں،صوبوں میں سم کارڈزکی فراہمی کے اہداف کے تحت پنجاب کو 51 لاکھ، سندھ کو 26 لاکھ، خیبر پختونخواکو 22 لاکھ، بلوچستان کو 4.85 لاکھ، آزادکشمیر کو 1.67 لاکھ، گلگت بلتستان کو 1.15 لاکھ اور اسلام آباد کو 21 ہزار سمز جاری کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا نیا سخت قدم، ملک میں داخلے کے لیے 5 سالہ سوشل میڈیا ہسٹری بھی دینا ہوگی
واضح رہےکہ بی آئی ایس پی کاآغاز2008 میں غریب ترین خاندانوں کی مالی معاونت کیلئے شروع کیا گیا تھا،موجودہ سہ ماہی وظیفہ 13,500 روپے ہے جو آئی ایم ایف کی شرط کے تحت جنوری سے 14,500 روپے ہونے کاامکان ہے، حکومت نے اس پروگرام کیلئے بجٹ میں 716 ارب روپے مختص کیے ہیں۔