امریکا کا نیا سخت قدم، ملک میں داخلے کے لیے 5 سالہ سوشل میڈیا ہسٹری بھی دینا ہوگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)امریکا نے ویزا کی درخواست دینے والے لاکھوں مسافروں کے لیے داخلے کی شرائط مزید سخت کرنے کی تیاری کر لی ہے، جس کے تحت اب انہیں گزشتہ 5 سال کی سوشل میڈیا سرگرمی، پرانے ای میل اکاؤنٹس، خاندانی معلومات اور بائیومیٹرک ریکارڈ بھی فراہم کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس مجوزہ تبدیلی کو قومی سلامتی کے لیے لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین اسے نجی زندگی میں بے جا مداخلت اور نگرانی کے نظام کی طرف قدم قرار دے رہے ہیں۔
امریکا نے ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت رکھنے والے ممالک کے مسافروں سے مزید ذاتی معلومات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 5 سال تک کی سوشل میڈیا ہسٹری، پرانے ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، خاندانی پس منظر اور بائیومیٹرکس شامل ہوں گے، یہ تجویز امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے فیڈرل رجسٹر میں جاری کردہ نوٹس میں پیش کی گئی ہے۔
یہ تقاضے اُن 42 ممالک کے لیے ہوں گے جو ای ایس ٹی اے (ESTA) کے تحت ویزا ویور پروگرام استعمال کرتے ہیں، ان میں برطانیہ، جرمنی، یونان، جاپان، قطر، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور اسرائیل جیسے ممالک شامل ہیں۔
US may soon require visitors from 42 countries to share 5 years of social media history, email accounts, family details, and biometrics, even if they can enter without a visa, under new DHS rules.https://t.co/rEQkxlXDvi
— Al Jazeera English (@AJEnglish) December 11, 2025
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی حکام سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں کن چیزوں کی تلاش کے خواہاں ہیں، تاہم سی بی پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہے جس میں امریکا میں داخلے پر سخت سکریننگ کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور اردن کے درمیان انسدادِ منشیات اور پولیس ٹریننگ تعاون بڑھانے پر اتفاق
فی الحال سوشل میڈیا کی معلومات دینا اختیاری ہے، لیکن نئی تجویز میں اسے لازمی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ای ایس ٹی اے استعمال نہ کرنے والے ممالک کے مسافروں کے لیے سوشل میڈیا شیئرنگ کی شرط پہلے ہی موجود ہے، جو سابق ٹرمپ دور سے نافذ ہے اور بائیڈن دور میں بھی برقرار رہی۔
امریکی حکومت نے عوام سے 60 دن میں رائے مانگی ہے، جس کے بعد یہ قواعد حتمی شکل اختیار کریں گے۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی حکام سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں کن چیزوں کی تلاش کے خواہاں ہیں، تاہم سی بی پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہے جس میں امریکا میں داخلے پر سخت سکریننگ کی ہدایت دی گئی تھی۔
فی الحال سوشل میڈیا کی معلومات دینا اختیاری ہے، لیکن نئی تجویز میں اسے لازمی بنانے کی سفارش کی گئی ہے، ای ایس ٹی اے استعمال نہ کرنے والے ممالک کے مسافروں کے لیے سوشل میڈیا شیئرنگ کی شرط پہلے ہی موجود ہے، جو سابق ٹرمپ دور سے نافذ ہے اور بائیڈن دور میں بھی برقرار رہی۔
مزید پڑھیں:پی پی رہنماحسن مرتضیٰ کے والد کا انتقال، نماز جنازہ ادا،آبائی علاقہ میں تدفین
امریکی حکومت نے عوام سے 60 دن میں رائے مانگی ہے، جس کے بعد یہ قواعد حتمی شکل اختیار کریں گے۔